اسلام آباد، 11 فروری (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں کوئی بھی خبر بغیر تصدیق آگے نہیں بڑھانی چاہیے۔ تنازعات کے دوران اقوام کو جھوٹی خبروں کے ذریعے بدنام کیا جاتا ہے۔ہمیں کوئی بھی خبر آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔ نوجوان نسل جعلی خبروں سے خود کو ہر ممکن حد تک بچائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ الفاظ کا استعمال بعض افراد کو قریب لانے اور دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بعض اوقات ہمارے بچے بھی ہمارے الفاظ کا اور مفہوم لیتے ہیں۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہمیں مناسب الفاظ کے ساتھ ساتھ موثر ابلاغ پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ دنیا بھر میں میڈیا نے مارکیٹنگ کے ذریعے انسانی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ میں میڈیا میں جعلی خبروں کے پھیلاﺅ پر بھی تحقیقی مقالہ لکھ چکا ہوں۔ (عراق میں) وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود نہیں تھے لیکن (پھر بھی) جنگ چھیڑ دی گئی۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، پاکستان نے بھارت کے دو جہاز گرائے اور قیدی پائلٹ کو واپس کیا۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا بلکہ خود کو امن پسند بھی ثابت کیا۔
وی این ایس،اسلام آباد











