پشاور، 18فروری(اے پی پی): سپیکر خیبرپختونخوااسمبلی مشتاق احمدغنی نے آج اسمبلی اجلاس میں گذشتہ روز کے اجلاس میں پیش آنے والے نا خوشگوار واقعے اور اپوزیشن ممبران کی جانب سے سپیکر صوبائی اسمبلی پر جانبداری کے الزامات کے جواب میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پچھلا اجلاس انہوں نے الیکشن کمیشن میں 60 ممبران اسمبلی کی رکنیت معطل ہونے کی وجہ سے ملتوی کیا کیونکہ ان ممبران کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع نہیں ہوئے تھے اور اپوزیشن کے کافی سارے اراکین کی رکنیت معطل تھی۔
انہوں نے کہا کہ عین اس دن گورنر خیبرپختونخوا کا آرڈر موصول ہوا، جس میں مورخہ17فروری 2020 کو 2بجے دوپہر کو اجلاس طلب کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مورخہ 17فروری2020کوصبح 11بجے تمام پارلیمانی لیڈران بشمول اپوزیشن لیڈر کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ ان کے ایجنڈے پر بات ہو سکے مگر اپوزیشن نے بلا کسی وجہ کے 11بجے کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن میرا جواب سنتی لیکن انہوں نے انتہائی غیر مناسب غیر پارلیمانی رویہ اپنایا اور اس مقدس ایوان اور جمہوری روایات کی توہین کی۔ انہوں نے اپنی رولنگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے رول نمبر227 کی شق2 کے تحت سپیکر کا اختیار ہے کہ ایسے ممبران کی تمام اجلاسوں میں شرکت پر پابندی لگا سکتے ہیں لیکن میں بطور کسٹوڈین آف دی ہاؤس پارلیمانی وجمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ان اراکین کو تنبیہ کرتا ہوں کہ وہ نظم وضبط کا مظاہرہ کریں اور آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اس طرح کی حرکت سے گریز کریں۔ سپیکر مشتاق احمد غنی نے مورخہ 21فروری2020بوقت 10بجے بروز جمعہ تک اجلاس ملتوی کردیا۔
وی این ایس پشاور