وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمتیں نہ بڑھانےاور  یکساں نصاب کے نفاذ کی منظوری دیدی

134

اسلام آباد ، 25 فروری (اے پی پی): وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمتیں نہ بڑھانے، یکساں نصاب کے نفاذ، احساس پروگرام میں پارلیمنٹرینز کی شمولیت، آڈٹ اوورسائٹ بورڈ کے دو ممبران اور ایگزم بنک آف پاکستان کے بورڈ ممبران کی تعیناتی کی منظوری دیدی ، موثر و بروقت حکومتی اقدامات کی بدولت اشیاءضروریہ کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، پاکستان کرونا وائرس فری ملک ہے، ملک و قوم کو اس سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، وزیراعظم عمران خان نے احساس پروگرام پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم نے کرونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ابھی تک پاکستان کرونا وائرس سے محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ملکوں میں اس وائرس کی موجودگی کی اطلاعات کے پیش نظر ملک میں تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھا جا سکے۔

 وزیرِ اعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے نئے تشخص اور عالمی رہنماﺅں کی جانب سے اس کا واضح اعتراف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی سطح پر ہونے والی کامیابیاں باعث فخر ہیں، ان کامیابیوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا تشخص اور نئے پاکستان کی شناخت سامنے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے تاجر برادری کے توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے مشیر تجارت اور وزیرِ توانائی سے اس معاملے پر بریفنگ لی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے وعدے کے مطابق جون 2019 تک مقرر کردہ نرخوں پر صنعتوں کو بجلی اور گیس فراہم کی گئی، محدود وسائل کے باوجود بجلی اور گیس کے حوالے سے صنعتوں کو طے شدہ مدت تک ریلیف فراہم کیا گیا ہے ۔

 معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ بجلی کے بلوں کے حوالے سے وزارت توانائی نے کابینہ کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارتِ توانائی نے بجلی کی قیمتوں کے تعین ، پس منظر، مختلف صارفین کےلئے موجودہ شرح اور صنعتوں اور عوام کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے قلیل المدت اور وسط مدتی لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 2015سے2018 کے دوران جہاں ایک طرف بجلی کی قیمت اوپر جا رہی تھی اور بجلی کی پیداوارا میں اضافہ کرنے کے لئے کارخانے لگائے جا رہے تھے وہاں اس قیمت کو بلوں میں شامل نہیں کیا گیا اور بجلی کی قیمت کو مصنوعی طور پر روکا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 2018 تک مختلف مد میں تقریباً پانچ سو ارب روپے سے زائد کے بقایا جات اکٹھے ہو چکے تھے۔ ان بقایا جات کے حساب سے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 5.32 روپے اضافہ بنتا تھا۔ سابق حکومت کی جانب سے 127 ارب روپے کی اعلان کردہ سبسڈی کو بھی بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سابق حکومت کے آخری سال میں سیاسی مفادات اور الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے لوڈ منیجمنٹ کو آدھا کر دیا گیا جس سے شعبے کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے حوالے سے حکومت کے اہم پروگرام ”احساس“ میں پارلیمنٹ کے اراکین کی مشاورت اور احساس پروگرام کے تحت مختلف ایونٹس میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کابینہ کو بتایا کہ احساس کے پانچ بڑے پروگرام (کفالت، آمدن، بلاسود قرضوں کی فراہمی، احساس انڈر گریجویٹ اسکالرشپ پروگرام اور لنگر خانے) کا اجراءکیا جا چکا ہے جبکہ تین بڑے پروگرام کا جلد آغاز کر دیا جائے گا جن میں تحفظ، نشوونما اور احساس ڈیجیٹل پروگرام شامل ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ احساس پروگرام میں ارکان پارلیمنٹ کو شامل کرنے کے حوالے سے ویب ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جس کی بدولت ہر رکن پارلیمنٹ کو احساس کے ہر پروگرام اور خصوصاً جاری پروگراموں اور ایونٹس کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ کابینہ نے آڈٹ اوورسائٹ بورڈ کے دو ممبران ڈاکٹر طارق حسن اور جہاں آرا سجاد کے استعفے منظور کرنے اور ان کی جگہ عبدالرحمن قریشی اور راحت کونین حسن کو بطور ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ایگزم بنک آف پاکستان کے بورڈ ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی۔ بورڈ سی ای او/صدر ایگزم بنک آف پاکستان، ایڈیشنل فنانس سیکرٹری وزارتِ خزانہ، ایڈیشنل سیکرٹری کامرس ڈویژن، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ جبکہ آزاد اراکین میں ندیم الٰہی، نوید قاضی اور احمد زبیری شامل ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ”پاکستان نیشنل ایجوکیشن پلان 2020“ کی بھی منظوری دی۔ اس پلان کا مقصد ملک میں یکساں نصاب کا نفاذ، دینی تعلیم کو مرکزی دھارے میں لانا، سکولوں سے باہر بچوں کو واپس سکولوں میں لانا اور تعلیم بالغان، اسکل فار آل اور اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات شامل ہیں۔

وی  این ایس،  اسلام آباد

Download Video