اسلام آباد، 06 مارچ ( اےپی پی): پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب معیار کے مطابق نہیں تھی، دو سال سے کہہ رہاہوں ، پی ٹی وی کے پاس کوریج کے لیے کوئی جدید آلات ہی نہیں ، بھارتی براڈ کاسٹر نہ ہوں تو میچ لائیو کوئی دیکھ نہ سکے، پی ٹی وی اپنی استعداد کار بڑھائے تو ہمیں بھارتی براڈ کاسٹرکی ضرورت ہی نہیں ۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی دبئی سے آکر شریک ہوئے اور کہا کہ دبئی تھا میٹنگ چھوڑ کر اجلاس میں پیش ہوا ، تین لاکھ لگا کر دوبارہ واپس جانا پڑے گا ۔ ممبر کمیٹی نے چیئرمین پی سی بی سے سوال کیا کہ ہمارا سارا پیسہ کرکٹ پر خرچ ہو رہاہے، رزلٹ کیا ہے؟ کرکٹ کا کوئی رزلٹ نہیں آ رہا۔ احسان مانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لاہور سے ممبر آئے ، ڈھائی لاکھ ان کا خرچہ آیا ، پی سی بی ایک پیسہ بھی حکومت سے نہیں لیتی ۔
اجلاس کے دوران ممبر کمیٹی علی زاہد نے سوال کیا کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کا کنٹریکٹ بھارت کو دیا گیا ، ہمارے آرٹسٹ علی ظفر ، راحت فتح علی بہتر ہیں، لیکن بھارت نے پابندی لگائی ہے ۔ چیئرمین پی سی بی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سارا کونٹینٹ پاکستانی پروڈیوسر نے ترتیب دیا تھا ، پی ٹی وی کے پاس وہ آلات نہیں، دو سال سے کہہ رہاہوں ، پی ٹی وی کے پاس کوریج کی قابلیت ہی نہیں ، بھارتی براڈ کاسٹر نہ ہوں تو میچ لائیو کوئی دیکھ نہ سکے ، پی ٹی وی اپنی استعداد کار بڑھائے تو ہمیں بھارتی براڈ کاسٹر کی ضرورت ہی نہیں ۔
ٹکٹس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ میں فیملی کو دعوت دیتا ہوں تو اپنا ٹکٹ خود خریدتا ہوں ، وزراءکا ہر طرف سے پریشر آتا ہے۔ممبر کمیٹی نے سوال کیا کہ پاکستان گیم کیوں نہیں جیت رہا ؟ جس پر احسان مانی نے کہا کہ ہم گیم اس وقت جیتیں گے جب سٹرکچر ٹھیک ہو گا، ممبر کمیٹی شاہدہ رحمانی نے پوچھا کہ سٹرکچر کس طرح ٹھیک ہو گا ۔ممبر کمیٹی نے کہا کہ سرفراز اتنا اچھا کپتان تھا اسے نکال کر باہر پھینک دیا گیا ،کراچی کے لڑکوں کو ٹیم سے نکالا جارہاہے ۔
اس دوران منور بی بی بلوچ اور شاہدہ رحمانی نے ایک مرتبہ پھر سے پی ایس ایل کی ٹکٹس کا معاملہ اٹھایا تو چیئرمین پی سی بی نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ ٹکٹ کے حقدار نہیں ہیں ، چیئرمین کرکٹ بورڈ کے جواب پر منور بی بی اور شاہدہ رحمان نے ناراضگی کا اظہار کیا۔احسان مانی نے کہا کہ ہمارے پاس محدودوسائل ہیں ۔ پی سی بی حکام کا کہناتھا کہ پی ایس ایل میچز کیلئے ہمارے پاس کراچی سے راولپنڈی تک 702 ملازمین ہیں۔۔۔
وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا نے کمیٹی کو بتایا کہ سپورٹس دیوال موضوع ہے، ہمیں سب کے تعاون کی ضرورت ہے کہ مل کر کھیلوں کو پروموٹ کریں۔معلوم ہے کہ کوچنگ سینٹر کا بہت براحال ہے اگر اس وقت کا حال بتاؤں جب میں آئی تھی تو آپ حیران ہو جائیں۔کوئی بھی ہو سب سینٹر بہت بری حال میں تھے، تمام ریکارڈ موجود ہیں۔
آگے بڑھیں، ماضی کی باتیں چھوڑیں، بہتری کی طرف چلیں۔کوئی کتنا بھی خودکفیل ہو لاء آف لینڈ سے کوئی بھی بری ازم نہیں۔ہر فیڈریشن جوابدہ ہونی چاہیے، بچوں کو موقع دیں، ایک دوسرے پر الزام نا لگائیں پی ایس ایل پورا پاکستان میں آگیا، ملک میں ڈیوس کپ ہورہا ہے۔دنیا کے سب سے جانے پہچانے ایونٹ ملک میں آرہے ہیں، سکواش، بیڈمنٹن کے بین الاقوامی ایونٹ پاکستان آرہے ہیں۔
اے پی پی / احسن/فاروق











