چمن ، ۲۰ اپریل (اےپی پی ): چمن بارڈر کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرونا وائرس کے پھیلاو کے خطرے کےپیش نظر پاک افغان سرحد کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل طورپر سیل کیا گیا تھا جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں پاکستانی ٹرک ڈرائیورز افغانستان میں پھنس گئے تھے ۔
پیر کو حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان میں پھنسے ھوئے پاکستانی ڈرائیوروں کو پاکستان آنے کی اجازت ملنے کے بعد ڈرائیورز اپنے کنٹنرز سمیت چمن بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ھونے کا سلسلہ شروع ھوگیا ھے ۔
داخل ھونے سے پہلے ٹرکوں ۔کنٹنرز اور ڈرائیورز پر باقاعدہ جراثیم کش اسپرے کیا جاتا ھے اور ان کے ڈرائیوروں کو مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ چمن بارڈر پر قائم کیا گیا قرنطینہ کیمپ منتقل کیا جارہا ھے اور ان کو کیمپ میں چودہ روز تک رکھاجائیگا۔
اس وقت ایک ہزار سے زائد پاکستانی ڈرائیورز افغانستان میں ڈیڑھ ماہ سے پھنسے ھوئے ہیں ان کو مرحلہ وار پاکستان میں داخل ھونے کی اجازت دی جارہی ھے،کورونا وائرس کے پھیلاو کے خطرے کی وجہ سے چمن پاک افغان سرحد بدستور مکمل سیل ہے ۔
اے پی پی / چمن / ریحانہ











