اسلام آباد ، 18 جون (اے پی پی) : وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں طبقاتی تفریق کو ختم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، یکساں نصاب تعلیم کو مرتب کرنے اور ملک بھر میں اس کے نفاذ کی کوششیں مزید تیز کی جائیں، مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے خصوصاً مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو جدید علوم کی تعلیم سے آراستہ کرنے اور ان کو ہنرمند بنانے کے حوالہ سے مدارس کے ساتھ طے شدہ لائحہ عمل پر عملدرآمد کے حوالہ سے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔
وزیرِاعظم عمران خان نے یہ ہدایات نظام تعلیم میں اصلاحات کے سلسلہ میں پیشرفت اور کورونا صورتحال کے تناظر میں تعلیم کے حوالہ سے حکومتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے حوالہ سے منعقدہ جائزہ اجلاس کے دوران دیں۔منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر تمام صوبائی وزراءتعلیم کی مشاورت سے تعلیمی و تدریسی عمل کے ضمن میں مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالہ سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے، اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں کی مالی مشکلات اور والدین کے فیسوں کے حوالہ سے تحفظات کو دور کرنے کے حوالہ سے بھی حکمت عملی وضع کی جائے۔
وزیرِاعظم کو ملک میں یکساں نصاب تعلیم متعارف کرانے، مدرسوں کے حوالہ سے اصلاحات، ہنرمند پاکستان کے فروغ اور ہائر ایجوکیشن کے شعبہ میں اصلاحات کے حوالہ سے اب تک کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک متفقہ نصاب تشکیل دےدیا گیا ہے جس کا اپریل 2021ءمیں نفاذ کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کا نصاب مرتب کرنے کےلئے متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔
کوروناکی وجہ سے تدریسی اداروں کی بندش کے باوجود نظام تعلیم کو جاری رکھنے کےلئے مختلف اقدامات مثلاً ٹیلی سکولنگ وغیرہ پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ 70 سے 80 لاکھ طلباءاس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ای۔تعلیم پورٹل کا اجراءبھی کیا جا رہا ہے۔ملک کے دور دراز علاقوں میں طلباءکی تعلیم کےلئے ریڈیو پاکستان کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ فاصلاتی تعلیم اور خصوصاً موجودہ حالات میں مختلف ذرائع سے تدریسی عمل تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں تمام موجود ذرائع و وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
اجلاس میں بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے ملک میں نظام تعلیم کی بہتری کےلئے مختلف اقدامات کے حوالہ سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مختلف صوبوں میں قائم وفاقی یونیورسٹیوں کے ذیلی کیمپسز کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ اس حوالہ سے مفصل لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ جہاں تعلیم کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے، وہاں اس بات کو بھی یقینی بنایا جا سکے کہ ذیلی کیمپسز میں زیر ِ تعلیم طلباءکی تعلیم میں کوئی حرج اور خلل نہ پڑے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرکے موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت اور ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کی وجہ سے تعلیم کے شعبہ کو غیر معمولی چیلنجز درپیش ہیں تاہم اس کے باوجود ہر ممکنہ کوشش کی جائے کہ تدریسی عمل کسی صورت متاثر نہ ہو۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ تعلیم کے شعبہ میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کےلئے آؤٹ آف باکس سلوشن تجویز کئے جائیں تاکہ درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے معیاری تعلیم کے فروغ اور آسان رسائی کے مشن کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزیر پنجاب برائے ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن طارق بنوری اور سینئر افسران شریک ہوئے۔
وی این ایس ، اسلام آباد











