ملتان میں بوسیدہ سیوریج لائنوں کی  تبدیلی، ایم ڈی  واسا  کا  منصوبے  میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کی ہدایت

195

ملتان، 04 جولائی (اے پی پی ): منیجنگ ڈائریکٹر واسا نسیم خالد چانڈیو نے کہا ہے کہ ملتان شہر میں بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے حوالے سے میگا پراجیکٹ کا آغاز ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اس منصوبے کے تحت سوا دو ارب کی مالیت سے 148 کلو میٹر پرانی لائنوں کی تبدیلی سے واسا کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور بوسیدہ سیوریج لائنوں پر آئے روز کراؤن فیلیئر کے واقعات پیش آنے کی شکایات بھی ختم ہو جائیں گی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بوسیدہ سیوریج لائنوں کے میگا پراجیکٹ کے آغاز سے قبل تمام سیوریج ڈویژنوں، کنسلٹنٹ نیسپاک اور کنٹریکٹرز سے خصوصی میٹنگ کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے میگا پراجیکٹ پر عملدرآمد کے دوران اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے، اسٹیمیٹ ، ڈیزائن اور ٹی ایس کو مکمل طور پر فالو کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے منصوبے میں وینٹی لینٹگ شافٹ کی تنصیب، پائپوں کی تیاری میں کیورنگ ،میٹریل کے باقاعدگی کے ساتھ ٹیسٹ اور پائپوں کو زہریلی گیسز سے بچانے کے لیے اپاکسی کوڈنگ کے عمل کو  بھی لازمی قرار دیا  جبکہ متعلقہ سیوریج ڈویژن اور کنسلٹنٹ نیسپاک کو باقاعدگی کے ساتھ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔

اجلاس میں  ایم ڈی واسا نے تمام سیوریج افسران کو بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے منصوبے پر جنگی بنیادوں پر کام شروع کروانے کی ہدایت دیتے ہوئے سپروژن کا عمل تیز کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے اس دوران بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے منصوبے میں مین ہولز کے ڈھکن اور لوہے کے کڑے چوری ہونے کی شکایات کی روک تھام کے لیے خاص حکمت عملی اختیار کرنے کا حکم دیا تاکہ گٹر کا ڈھکن محفوظ ہونے سے نہ صرف شہریوں کو ریلیف میسر ہو بلکہ ادارہ کو بھی مین ہول کورز کے حوالے سے درپیش شکایات میں کمی لائی جا سکے۔

اجلاس میں ڈائریکٹر ورکس شہزاد منیر، ڈپٹی ڈائریکٹرز سیوریج ملک زاہد اقبال، حافظ محمد وقاص، محمد ساجد، پی اینڈ ڈی اور نیسپاک کے افسران اجلاس میں شریک تھے۔

وی  این  ایس،  ملتان