وزیراعظم عمران خان نے عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ جس انداز میں اُٹھایا اُس کی  مثال نہیں ملتی: وزیر اعلی محمود خان

149

پشاور، 5 اگست(اے پی پی):  یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر قیادت مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی، جو گورنر ہاؤس پشاور سے شروع ہوکر آفیسرز میس تک پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔

یوم استحصال کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بین الاقوامی طاقتوں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں لاک ڈاون ختم کرائیں، کشمیری عوام کو ان کی مرضی سے جینے کا حق دلوائیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ فاشسٹ بھارت نے اس عرصہ کے دوران کشمیری عوام کو حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کیلئے ظلم و ستم کی انتہاءکر دی ہے۔

 محمود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نریندر مودی نے 5 اگست2019 کو بھارتی آئین میں شامل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل۔370) کا خاتمہ کیا اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کی نئی داستان کا آغاز کیا، کشمیری عوام کو گزشتہ ایک سال سے بھارت کی طرف سے بد ترین ریاستی دہشت گردی اور سخت ترین لاک ڈاﺅن کا سامنا ہے ،جسکی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں اور اُن کے حق خودارادیت کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ نہتے کشمیری عوام بھارتی ظلم کے سامنے سینہ سپر ہیں، تشویش کی بات یہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے بھارت کی انسانیت سوز کاروائیوں سے پردہ اُٹھایا ہے اور کشمیر کی نازک صورتحال کو اُجاگر کیا ہے ، جس کی وجہ سے بھارت آج عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔

 ریلی میں صوبائی کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی خیبرپختونخوا، دیگر سرکاری حکام اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

وی این ایس، پشاور