اسلام آباد، 27 جون (اے پی پی ): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے فروغ کے لیے حکومتِ پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور حکومت کے اقتصادی تبدیلی کے ایجنڈے کا بنیادی ستون قرار دیا۔
ورلڈ مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈے 2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر مضبوط معیشت کی بنیاد باہمت، ثابت قدم اور جدت پسند کاروباری افراد رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تقریباً 71 لاکھ 40 ہزار ایم ایس ایم ایز ملک کی سب سے بڑی پیداواری قوت ہیں، جو قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 40 فیصد، برآمدات میں 30 فیصد حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ غیر زرعی شعبے میں 80 فیصد سے زائد روزگار فراہم کر رہے ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بصیرت افروز قیادت میں پاکستان صنعتی ترقی، جدت، برآمدات پر مبنی معیشت اور نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی اصلاحات کے جامع ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایم ایز کی ترقی حکومت کے قومی اقتصادی وژن کا مرکزی جزو ہے، جس کا مقصد ایک برآمدات پر مبنی، جدت سے ہم آہنگ، عالمی سطح پر مسابقتی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی معیشت کی تشکیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت مستقبل کی عالمی معیشت کا رخ متعین کریں گے، اور وہی ممالک اقتصادی قیادت حاصل کریں گے جو ٹیکنالوجی اور کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا سازگار کاروباری ماحول تشکیل دے رہی ہے جہاں کاروباری سرگرمیوں، اختراع اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ملک کے ہر خطے کے کاروباری افراد کو یکساں مواقع میسر آئیں۔
کاروباری شعبے کو مالی سہولیات کی فراہمی میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ایس ایم ای فنانسنگ 584 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 854 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جو 46 فیصد سالانہ اضافہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران ایس ایم ای قرض لینے والے کاروباروں کی تعداد 53 فیصد اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے ان اعدادوشمار کو پاکستان کے کاروباری ماحول پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر قرار دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے جدید، مؤثر اور انقلابی کاروباری منصوبوں کی معاونت کے لیے 30 ارب روپے کا خصوصی ایس ایم ای ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا ہے، جس کا مقصد کاروباری مسابقت میں اضافہ، برآمدات کا فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے سمیڈا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ اپنے تین سالہ جامع بزنس پلان کے تحت کاروباروں کو مالی وسائل تک بہتر رسائی، کاروباری رجسٹریشن، بین الاقوامی معیار کی اسناد، برآمدی تیاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور علاقائی و عالمی سپلائی چینز سے منسلک کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔
ہارون اختر خان نے خواتین کاروباری افراد کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا بھی اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین پاکستان کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سمیڈا کی جانب سے تیار کی گئی پاکستان کی پہلی قومی ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی اور ایکشن پلان سے ملک بھر کی 32 لاکھ سے زائد خواتین کاروباری افراد مستفید ہوں گی، جنہیں مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی، منڈیوں تک رسائی اور کاروباری ترقی کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ صنعتوں، سرکلر اکانومی اور ڈیجیٹل کاروباری ماڈلز کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ صنعتی ترقی کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستانی ایم ایس ایم ایز عالمی منڈیوں میں کامیاب مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا، “پاکستان کا معاشی مستقبل صرف سرکاری دفاتر میں نہیں بلکہ ہمارے کارخانوں، ورکشاپس، ٹیکنالوجی مراکز، کھیتوں اور ملک بھر کے لاکھوں چھوٹے کاروباروں میں رقم ہوگا۔” انہوں نے تمام متعلقہ اداروں، نجی شعبے اور کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ کاوشوں سے ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں جدت کو فروغ ملے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور کاروباری سرگرمیاں قومی خوشحالی کی بنیاد بنیں۔
اس سے قبل چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا، نادیہ جہانگیر سیٹھ نے ادارے کے تین سالہ بزنس پلان کے تحت جاری اہم اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سمیڈا کاروباری رجسٹریشن، برآمدی تیاری، بین الاقوامی سرٹیفیکیشن، ڈیجیٹل تبدیلی اور ماحول دوست کاروباری ترقی کے ذریعے پاکستانی ایم ایس ایم ایز کو زیادہ مسابقتی، مالیاتی اداروں کے لیے قابل اعتماد اور عالمی منڈیوں سے منسلک بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
تقریب میں چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں، ترقیاتی شراکت داروں، خواتین کاروباری شخصیات، صنعت و تجارت سے وابستہ نمائندوں اور ملک بھر سے آئے ہوئے ایم ایس ایم ایز کے نمائندوں نے شرکت کی اور حکومت کی جانب سے کاروباری شعبے کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔
ورلڈ ایم ایس ایم ای ڈے 2026 کے موقع پر سمیڈا نے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں آگاہی پروگرامز، اسٹیک ہولڈر سیشنز اور مشاورتی نشستوں کا انعقاد بھی کیا، جن کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، مقامی صنعتوں کی مسابقت بڑھانا اور ایم ایس ایم ای شعبے تک حکومتی معاونت کو مزید مؤثر انداز میں پہنچانا تھا۔











