عدالتوں کا احترام کرتا ہوں اور انہی عدالتوں سے ہی رجوع کرکے حق دفاع استعمال کروں گا: شوکت یوسفزئی

112

پشاور، 24اگست(اے پی پی): خیبرپختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت شوکت یوسف زئی نے اپنے خلاف مقامی عدالت کی طرف سے اسفندیارولی کیس میں دیے گئے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے تو اس کیس کے مندرجات کا بھی علم نہیں میڈیا سے پتہ چلا ہے کہ ایک مقامی عدالت نے اے این پی کے رہنما اسفندیارولی خان کی طرف سے دائر کئے گئے ہر جانا کیس میں میرے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

شوکت یوسفزئی نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ انہیں ابھی تک کسی عدالت کی طرف سے کوئی قانونی نوٹس نہیں ملا انہیں تو یہ بھی نہیں پتا  تھاکہ کون سی عدالت میں ان کا کیس تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور اسی عدالت سے رجوع کرکے حق دفاع ثابت کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یکطرفہ فیصلے پر افسوس ہوا میں نے کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ ایک پریس کانفرنس میں کسی صحافی کے سوال پر مرحوم اعظم ہوتی کی طرف سے اسفندیارولی خان کے بارےمیں دیئے گئے بیان کا حوالہ دیا تھا۔

اعظم ہوتی مرحوم اسفند یار ولی خان کے قریبی رشتہ دار ، گھر کے اہم فرد اور پارٹی کے مرکزی عہدیدار تھے۔کیا موصوف نے  ان کو بھی شوکاز نوٹس دیا تھا۔