وزیراعلیٰ بلوچستان سے بی ایم سی بحالی تحریک کے مشترکہ وفد کی ملاقات

186

کوئٹہ، 07ستمبر( اے پی پی ): وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے بی ایم سی بحالی تحریک میں شامل طلباء، ملازمین اور ڈاکٹروں کے مشترکہ وفد نے یہاں ہونے والی ملاقات کے دوران مسائل کے ان کے حل کے لئے حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، صوبائی وزراء میر اسد بلوچ، زمرک خان اچکزئی، پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی، بی اے پی کے رہنما سردار نورمحمد بنگلزئی، سیکریٹری صحت دوستین جمالدینی اور سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ بھی اس موقع پر موجود تھے، اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کا ترمیمی بل کابینہ کے 9ستمبر کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، ہم نے طلباء سے ان امور کو کابینہ میں زیر غور لانے کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کررہے ہیں، گورنر بلوچستان کی صدارت میں یونیورسٹی کی سینٹ کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں کئی ایک اہم فیصلے کئے گئے ہیں جن پر عملدرآمد سے بی ایم سی کے طلباء، ملازمین اور ڈاکٹروں کے تحفظات دور ہوں گے جبکہ یونیورسٹی کے ترمیمی بل سے یونیورسٹی کے ایکٹ میں پائے جانے والے ابہام کو ٹھیک کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی ایم سی بحالی تحریک کے تحت دھرنا اور ہڑتال ہو یا نہ ہو حکومت ترمیمی بل کے ذریعہ اس مسئلہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرے گی، انہوں نے کہا کہ کالج کے ملازمین کو دوبارہ سے کالج کے تحت کئے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جارہا ہے اور قانون کے تحت حکومت کو جو اختیارات حاصل ہیں وہ کئے جائیں گے۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ بی ایم سی بحالی تحریک کے نمائندے سیکریٹری صحت اور سیکریٹری خزانہ سے اجلاس منعقد کرکے ترمیمی بل کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کریں گے، وفد نے توجہ اور ہمدردی سے ان کے مسائل سننے اور سنجیدہ اقدامات کرنے پر وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے اراکین کا شکریہ ادا کیا۔