پشاور، 23ستمبر(اے پی پی): صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی اکبر ایوب خان نے کہا ہے کہ صوبے کے جن تحصیلوں میں زمین خالی پڑی ہے ان پر بچوں اور عورتوں کے لیے جلد از جلد تفریحی پارکس بنوائے جائیں اور ساتھ ہی ان خالی زمینوں کو کسی اچھے مقصد کے لئے استعمال میں لایا جائے تاکہ عوام کو ان سے فوائد مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت جاری کی کہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر کے ہر دفتر کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا اور یہ کام کلاس اے کے دفاتر سے شروع کروا کے تمام ٹی ایم اے کے دفاتر کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملازمین اپنی حاضری کو یقینی بنائیں اور حاضری بذریعہ چہرے کی شناخت سے لگوائی جائے گی اور ہر ملازم اپنی یونیفارم میں حاضری لگوا کر کام پہ جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوکل کونسل بورڈ کے دورے کے موقع پر منعقد جائز اجلاس میں ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر لوکل کونسل بورڈ کے سیکرٹری خضر حیات اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ سیکرٹری ایل سی بی نے صوبائی وزیر کو لوکل کونسل بورڈ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور بورڈ کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔
صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ ہم نے ایک ٹیم ہو کر چلنا ہے اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ہم لوکل کونسل بورڈ کی منیجمنٹ کو بہتر بنائیں گے اور اس کے لیے ہر افسر اپنا کردار ادا کرے گا۔ کیونکہ اس محکمے کا عوام سے براہ راست روابط ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ عوام کو بہترین سہولیات میسر ہوں۔
اکبر ایوب خان نے ہدایت جاری کی کہ ہر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر کے دفتر کی ایک ڈیجیٹل ڈائریکٹری ہونی چاہیے۔جس سے ہمیں صرف ایک بٹن کے کلیک پر وہاں کے پراپرٹی کی مکمل تفصیلات مل سکے انہوں نے ہدایت جاری کی کہ لیز کی کوئی رینیول نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی ایڈوانس پیمنٹ کرے گا اور کسی نے کی تو وہ اس کا خود ذمہ دار ہوگا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام انکوائریوں کو ڈیجیٹلائز کروایا جائے اور ہر انکوائری کا فائل میرے آفس ضرور پہنچنا چاہیے تھا کہ مجھے ان کے فیصلوں کا علم ہو۔
اکبر ایوب خان نے کہا کہ تمام تحصیل میونسپل آفیسرز کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے گا اور ہر ماہ ان کا اجلاس بلوایا جائے گا تاکہ ان کے متعلقہ اضلاع میں جاری منصوبوں اور کاموں کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ورک آرڈر اس ٹائم تک جاری نہیں ہوگا جب تک اس کا ٹی ایس مکمل نہ ہوا ہو اس سے کوالٹی اور کارکردگی پہ اطمینان بڑھے گا اور سسٹم میں شفافیت آئے گی۔











