کراچی،18اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقیات اور خصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ دو ماہ پہلے نوازشریف کی پارٹی کے رہنما جس میں نوازشریف کا بھائی بھی شامل ہیں، این آر او مانگنے کے لئے پر تول رہے تھے ،نوازشریف نے بیٹی اور اپنے لئے سیاسی بھیک مانگنے کے لئے ایلچی بھیجا تھا ،نوازشریف نے ہر کوشش کی جب ہرجگہ سے ناکامی ہوئی تو پھر نوازشریف کوجمہوریت یاد آگئی۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے اتوارکو وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ نوازشریف کی سیاست منافقت پر مبنی رہی ہے اور آج بھی وہ منافقت کی سیاست کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی سیاست افراد سے نہیں اداروں سے ٹکرائو ی سیاست رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف ہوتے کون ہے سوال پوچھنے والے ، اپ ایک زایافتہ مجرم ہے ، اپ وہ شخص ہے جس کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نےجھوٹا اور امانت میں خیانت کرنے والا قرا ر دیا تھا اور وزارت عظمی کےعہدے سے فارغ کردیا تھا ، اپ کے سوال پوچھنے کا وقت گزر چکا ہے اور اپ کو جواب دینے پڑے گا۔
اسد عمر نے کہا کہ اپ ایک سزایافتہ قیدی ہے ، جو مکر اور فریب کرکے ملک سے بھاگے ہے اور لندن میں چھپے ہے ۔ انہوں نےکہا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے سپریم کورٹ پر حملہ کروایا تھا ۔ انہوں نےکہا کہ جو ریاستی ادارے نوازشریف کی غلامی قبول نہ کریں ان پر نوازشریف کا اعتراض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف تمہاری دھمکیاں تمہاری کام نہیں آئے گی ،بھارت کے اندر مسلمانوں پر جومظالم ہوتے ہے اس پر نوازشریف خاموش ہوتے ہیں ، کھلبوشن کا نام کیوں نہیں لیتے، اپنے ملک کے اداروں پر تو اپ تنقید کرلیتے ہے بھارت پر کیوں تنقید نہیں کرتے ، مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو اپ نے اپنے گھر کیوں دعوت دی ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اداروں کو سیاست میں نہ لائیں ، گزشتہ دو سالوں کے دوران 283 پاک فوج کے آفسر و جوان ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔
اسد عمرنے کہا کہ پی ڈی ایم کا نہ جمہوریت اور نہ ہی سول بالادستی سے کوئی تعلق ہے یہ صر ف اور صرف کرپشن کے پیسوں کو بچانے کے لئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن 11 جماعتوں کا آج کراچی میں جلسہ ہے جب یہ جماعتیں اقتدار میں تھی انہوں نے کراچی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے جنتا ووٹ پی ٹی آئی کو ملا ، ان 11 جماعتوں کاووٹ ملاکر بھی پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں یہ آج کراچی کے جلسہ سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرا وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے سوال ہے کہ وہ ہروقت لاک ڈاون کی بات کرتے تھے اور جب لاک ڈاون کے دوران ہم غریب لوگوں کو تمام ایس اوپیز پر عمل درآمد کرنے کے بعد 12 ہزار روپے دینے کے لئے جمع کرتے تھے تو یہ لوگ کہتے تھے کہ یہ مجرمانہ سرگرمی ہے اور اس سے کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے لیکن آج بغیر ایس اوپیز پر عمل کئے جلسہ کیا جارہا ہے لیکن اس سے صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے رہنماوں میں ایک قدر مشترکہ ہے کہ سب کے پاس چوری کا مال ہیں اور پاکستان کی عوام کا پیسہ چوری کیا ہے ، دو بچے والدین کی چوری بچا رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن اپنی چوری بچا رہے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو 12 سال ہوگئے ندھ میں مسلسل حکومت کرنے کو لیکن یہاں عوام کے لئے کچھ ہیں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں تمام شعبے چاہے تعلیم کا شعبہ ہو، حت ہوں یا ٹرانسپورٹ سب تباہی کا شکار ہیں۔
وفاقی وزیر علی زیدی نے کہاکہ سب سے زیادہ غربت سندھ میں ہے اور سب سے امیر سیاستدان بھی سندھ کےہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک بگاڑا ہے وہ آج ملک سدھارنےچلےگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ان سے سوال پوچھوں تو کہتے ہے جمہوریت کوخطرہ ہے ، جمہوریت نام ہی احتساب کا ہے ، احتساب کے بغیر جمہوریت نہیں وتی ۔ انہوں نےکہاکچھ الطاف حسین نے کراچی میں کیا ہے آصف علی رداری وہی سندھ میں کررہا ہے ۔