اپوزیشن جماعتوں کی ملکی اداروں کے خلاف بیان بازی قابل مذمت ہے؛صوبائی وزرا ءکی کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس

304

کوئٹہ،19اکتوبر  (اے پی پی):صوبائی وزرا میر ظہور احمد بلیدی، میر سلیم کھوسہ، رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی نے کہا ہے کہ لوٹ مار کا حساب مانگنے پر جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے، اپوزیشن جماعتوں کی ملکی اداروں کے خلاف بیان بازی کی مذمت کرتے ہیں، 2018 میں مسترد ہونے کا بدلہ اپوزیشن آج عوام سے لے رہی ہیں،بلوچستان تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جلسے جلوس میں کورونا کے پھیلا ئو سے نقصان صرف عوام کو ہوگا اپوزیشن کی انتشار والی سیاست سے عوام واقف ہیں ان کا بیانیہ ملک دشمنی پر مبنی ہے عوام عملی کام پر یقین رکھتی ہے لاشوں کی سیاست ختم ہو چکی ہے نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی اقتدار میں کرپشن کے کیسز زبان زد عام تھے قائد اعظم کے مزار پر حاضری کے دوران نعرے بازی سے مزار قائد کی بے حرمتی ہوئی ہے۔

 ان خیالات کا اظہار صوبائی وزرا میر ظہور احمد بلیدی، میر سلیم کھوسہ، رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی اور وزیر اعلی بلوچستان کے کوارڈینیٹر بلال کاکڑ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ 11 سیاسی جماعتوں نے ذاتی مفادات کیلئے ڈرامہ رچا رہے ہیں، پی ڈی ایم کے جلسوں میں جو زبان استعمال ہوئی اور جو بیانیہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ محب وطن پاکستانی کی نہیں ہو سکتی، یہ سارے بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ نقصان پاکستان اور یہاں کے لوگوں کا ہو۔

انہوں نے  کہا کہ پاکستان کے موجودہ مسائل کو بڑھاوا دینے میں سیاسی جماعتوں کا کردار ہے، اقتدار میں صرف ان کا کاروبار بڑھا جب ان سے پیسوں کا جواب مانگا جاتا ہے تو انہیں جمہوریت خطرے میں لگتی ہے، بلکہ ایک سکرپٹ کے تحت اداروں کا مورال ڈاﺅن کررہے ہیں، اس ادارے کا جس کے جوان ملک کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں ان پر زبان درازی قابل افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ  بلوچستان عرصہ دراز سے پسماندہ رہا ہے جس کی ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے، بلوچستان میں سابقہ ادوار میں سی پیک صرف نعروں تک محدود رہا اقتدار میں آئے تو بلوچستان کو بھلا دیا جاتا ہے اور سیاست میں بلوچستان سر فہرست ہے، مسترد سیاست دان جن کا نعرہ پیٹ بھرنا ہوتا ہے لیکن سیاست کیلئے محرمیوں کا نام لیا جاتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی اقتدار میں کرپشن کے کیسز زبان زد عام تھے، لیکن اب لوگ بخوبی ان کی اصلیت سے واقف ہوچکے ہیں 62 بلین ڈالرز کا پروجیکٹ آیا لیکن بلوچستان کو کچھ نہیں ملا، انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں کا کوئی پروجیکٹ بتایا جائے کہ وہ بلوچستان کیلئے مفید ہوں، دنیا میں ڈھائی ، ڈھائی سال کی حکومت کا مثال نہیں ملتی لیکن ہم نے وہ بھی دیکھ لیں۔ 70 سے لیکر اب تک یہ تمام جماعتیں حکومت کا حصہ رہی ہیں ان کی عوام کیلئے کیا خدمات ہیں آج جب بلوچستان میں میگا پروجیکٹس آرہے ہیں تو انہیں بلوچستان یاد آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا سیاسی جماعتوں کو ان شہدا کی لاشیں نظر نہیں آرہی جو یہاں امن کیلئے دے رہے ہیں یہ سیاسی جماعتیں عوام کی جانب سے مسترد ہو چکے ہیں عوام عملی کام پر یقین رکھتی ہے لاشوں کی سیاست ختم ہو چکی ہے بلوچستان تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہے ہر ضلع میں ترقیاتی کام جاری ہے، سیاست کا یہ معیار مزید چلنے والا نہیں بلوچستان کے حالات سے آپ بری الزمہ نہیں ہو سکتے یہاں 3 سے 4 ہزار لوگ شہید ہوئیں لیکن قوم پرستوں نے کبھی آواز بلند نہیں کی، آج اپوزیشن کی سیاست ملکی اداروں کے خلاف اور دشمن کے ایجنڈے پر کی جا رہی ہے، یہاں کے حالات تبدیل ہو گئے ہیں روزانہ کی بنیاد پر بم دھماکہ اور ٹارگٹ کلنگ نہیں ہو رہی انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی سیاست لاشوں تک محدود تھی لیکن اب لوگ باشعور ہو چکے ہیں ہم لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کی بنیاد پر سیاست کر رہے ہیں سیاسی جماعتیں انتشار پھیلانے کیلئے اکھٹی ہو گئی ہے ملک میں سیاسی عدم استحکام لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ملک دشمنی اور عوام سے ظلم کے مترادف ہے آپ 2023 تک انتظار کرے آپ نے مزید ایکسپوز ہونا ہے، جلسہ جلوس ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن اب لوگ ان نعروں میں نہیں آنے والے اور نہ ہی ہم کسی کویہ سازش کامیاب ہونے دیں گے۔

صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ 2018 میں مسترد ہونے کا بدلہ اپوزیشن آج عوام سے لے رہی ہیں، جلسے جلوس میں کورونا کے پھیلا سے نقصان صرف عوام کو ہوگا پاکستان ایک بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اپوزیشن کے جلسے میں خطاب سے ایسا لگتا ہے جیسا کسی فلم کا ہیرو ڈائیلاگ بول رہا ہے ایسی زبان سے ملک میں افرا تفریح پھیل رہی ہے، ملک کی وقار مجروح کی جا رہی ہے قائد اعظم کے مزار پر حاضری کے دوران نعرے بازی سے مزار قائد کی بے حرمتی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں صرف خود کو بچانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اداروں کے خلاف باتیں تصادم کا خطرہ ہے اپوزیشن الیکشن کی تیاری کرے آپ کو عوام نے مسترد کیا ہے اگر عوام لانا چاہیے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔