شکرگڑھ،10نومبر(اے پی پی): کرتار پور راہداری کا ایک سال مکمل ہونے پر سالگرہ کی تقریب اور سیمینار کا انعقاد دربار کرتار پور میں ہوا۔
کرتارپور راہداری کی سالگرہ کی تقریب مذہبی روادی اور بھائی چارے کی مثال بن گئی جس میں گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے ارکان ،سکھ مذہبی شخصیات اور اسلامی سکالرز سمیت تمام مذاہب کے سرکردہ افراد سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی،کرتار پور آمد پر مہمانوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔
تقریب کی صدارت وی سی یونیورسٹی آف نارووال ڈاکٹر طارق محمود نے کی، جبکہ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر سردار سکھونت سنگھ جنرل سیکرٹری سردار امیر سنگھ،سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ طارق وزیر،مینجمنٹ کمیٹی بریگیڈئر عمران،ارکان پنجاب اسمبلی رمیش سنگھ اروڑا،رانا منان خان، ایم پی اے، ونگ کمانڈر عرفان غازی،پیر تبسم بشیر اویسی نے خصوصی شرکت کی۔
تمام افراد نے مل کر کرتار پور کوریڈور کی پہلی سالگرہ کا کیک کاٹا اور ملکی سلامتی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔
سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں مقررین نے وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، حکومت پاکستان کو اس تاریخی راہداری کھولنے اور سکھ کمیونٹی کو شاندار سہولتوں کی فراہمی پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کو تاریخ میں سنہری لفظوں سے لکھا جائے گا، 70 سال سے راہداری کھلنے کی منتظر قوم کو یہ موقع موجودہ حکومت نے فراہم کیا جس پر سکھ قوم ہمیشہ احسان مند رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے کرتار پور سمیت ملک بھر میں سکھ برادری کو مکمل مذہبی آزادی دے رکھی ہے، تمام گورودواروں کا انتظام سکھ رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے، ہم 1999 سے گورودواروں کا انتظام سنبھال رہیں ہیں، ہمیں کبھی روکا نہیں گیا۔
مقررین نے بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں پر پابندی اور بے بنیاد پراپیگنڈے پر بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آج بھارتی یاتری ہوتے تو خوشی دوبالا ہوجاتی۔جن لوگوں کے لئے کرتار پور راہداری کھولی گئی بھارت انہیں اپنے مقدس ترین مقام پر آنے سے روک کر ظلم کر رہا ھے، بھارتی حکومت پہلے دن سے کرتار پور راہداری کے حق میں نہیں ،ہر اہم موقع پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں،5 ہزار افراد کے کرتار پور آنے کا معاہدہ ہوا لیکن بھارتی رکاوٹیں کی وجہ سے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد کرتار پور نہیں پہنچ سکتی،بھارتی حکومت اور میڈیا کرتار پور کے بارے میں منفی پروپیگنڈا بند کرے ۔مقررین نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ھے کہ سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کو انتظامی معاملات سے الگ کیا گیا ہے ۔بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی دے، اقلیتوں سے بدسلوکی اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم بند کرے-











