اپوزیشن والوں کو استعفی دینے کا شوق ہے تو ہم ان کو ویلکم کریں گے,وہ اپنا شوق پورا کریں، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماءحلیم عادل شیخ کا پریس کانفرنس سے خطاب

121

کراچی، 7 دسمبر (اے پی پی): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنماءحلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اپوزیشن والوں کو استعفی دینے کا شوق ہے تو ہم ان کو ویلکم کریں گے، وہ بھلے اپنا شوق پورا کریں، ان کی جگہ بھرنے کے لئے کپتان کے کھلاری تیار بیٹھے ہیں جو بھی سیٹ خالی ہوگی کپتان کا کھلاڑی آجائے گا، پی ڈی ایم اے اصل میں پپا ڈیڈی مولانا بچاﺅ تحریک ہے، یہ سب چور ہیں، سب اپنی جان بچانے کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاثر دیا جارہا ہے کہ 13 تاریخ کو لاہور کے جلسے میں پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے، ایسی کوئی بات نہیں ہے ان کو اپنی فکر کرنی چاہیئے کیونکہ اس جلسے میں لاہوری ان سے پوچھیں گے کہ چوہدری شوگر مل، رمضان شوگر مل، العزیزیہ ریفرنس کا حساب دو، پانامہ کیا تھا، پاکستانی بینکوں سے نواز شریف 140 بلین ڈالر لوٹے وہ کہاں گئے، ان کا حساب دو، نواز شریف اینڈ کمپنی نے چینی سبسیڈی کے نام پر 60 بلین ڈالر کا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور منی لانڈرنگ کی اس کا حساب دو، جلسے میں لاہوری یہ بھی پوچھیں گے یہ بی ایم ڈبلیو گاڑیاں کہاں سے آئیں، مری میں بنائی جانے والی جدائدیں کہاں سے آئیں اور پنجاب کے میگا پروجیکٹ میںجو کرپشن کی اس کے پیسے کہاں گئے اور ان سب کا جواب آپ کو لاہوریوں کو دینا پڑے گا۔ حلیم شیخ نے کہا کہ جس انداز سے ملک میں افراتفری پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کورونا پھیلاﺅ مومنٹ چلائی جارہی ہے، یہ برداشت نہیں کی جائے گی، یہ اپنی چھوٹی چھوتی تقریبوں میں آنے کے لئے کورونا ٹیسٹ کرانے کے لئے کہتے ہیں لیکن دوسرے طرف ملک میں جلسے جلوس کرکے عوام کو کورونا کی وبا میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور اس کی ٹیم عمران خان اور ان کی بہن کے حوالے سے بازیبا زبان استعمال کرے کے اپنا قد بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سارے مل کر بھی عمران خان کے قد کے برابر نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈیم ایم نے اگر لانگ مارچ کیا تو پھر سندھ میں پی پی کے خلاف بھی ہم لانگ مارچ کے لئے تیار ہٰیں اور اس کے لئے عوام تیار بیٹھی ہے۔ سلیم مانڈوی والا اور نیب کے معاملے پر بات کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سلیم مانڈوی والا نے کچھ دنوں سے ڈرامہ شروع کیا ہوا ہے اور کل جو انہوں نے بیان دیا ہے ”نیب وارسس سینٹ آف پاکستان“ کی میں مذمت کرتا ہوں۔ انہو ںنے کہا کہ سینٹ پاکستان کا ایک مقدس اور محترم ادارہ ہے وہ چوروں کو بچانے کے لئے نہیں ہے، سلیم مانڈوی والا کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیئے تھا کیونکہ سینٹ چاروں صوبوں اور فیڈریشن کو ساتھ رکھنے کے لئے ہے اور ملک کا انتہائی اہم ادارہ ہے۔ حلیم عادل شیخ نے سندھ پولیس کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس تباہ ہوچکی ہے سندھ میں کرائم اور غریبوں کے ساتھ پولیس کی زیادتی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، خاص طور پر پی ٹی آئی کے لوگوں کو بے سہارا اور غریبوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں آئی جی سندھ مشتاق مہر اور ڈائریٹ حوالدار میں کوئی فرق نہیں رہا، اس کو نہ اپنی عزت کی پروا ہے اور نہ ہی اپنے عہدے کی پروا ہے جب تک سندھ میں پولیس زیادتیاں بند نہیں ہوتیں، آواز اٹھاتا رہوں گا۔ آخر میں کورونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کورونا ایک حقیقت ہے اسے سمجھنا پڑے گا، کراچی میں کورونا کے مریضوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پندرہ دن پہلے کورونا پوزیٹیو ہوا تھا جو کل اتوار کو منفی ہوچکا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کورونا کے مریضوں کے کہا کہ کورونا کے دوران دو چیزیں انتائی اہم ہیں جو میں نے محسوس کیں جن میں ایک یہ کہ آپ کو ٹیشن نہیں لینا چاہیئے، کورونا کے حوالے سے ٹی وی کی خبریرں نہیں دیکھنی شاہیئں اور دوسرے یہ کہ جس طرح آپ اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھتے ہیں اور باربار ہاتھ دھورتے ہیں اسی طرح آپ اپنے موبائل کو بھی سینیٹائزڈ کرتے رہیں۔