پشاور، 7دسمبر(اے پی پی): وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش نے کہا ہے کہ پوری صوبائی حکومت خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پیش آنیوالے افسوسناک واقعے پر غمزدہ ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے آکسیجن واقعہ اور اسکی ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔
کامران بنگش نے کہا کہ وزیر اعلی محمود خان نے آج صبح اس معاملے کے حوالے سے اجلاس بلایا تھا جس میں وزراء سمیت خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ اف گورنرز کے ممبران شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کے سامنے ابتدائی رپورٹ رکھی گئی اور واقعے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ واقعے سے لیکر اب تک تمام معاملات وزیراعلی محمود خان خود مانیٹر کررہے ہیں۔
معوان خصوصی نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے 48 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ کا وعدہ کیا تھا لیکن صرف 24 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ منظر عام پر لے آئی جس پر کاروائی کرتے ہوئے غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور مزید تحقیقات بھی ابھی جاری ہے۔
کامران بنگش نے کہا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا کوئی معاوضہ نہیں ہے تاہم وزیر اعلی محمود خان نے واقعے میں جاں بحق مریضوں کے لواحقین کے لئے 10 لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے کیونکہ خیبر پختون خوا حکومت واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ سے بخوبی واقف ہے۔ ۔
اس موقع پر وزیر صحت تیمور جھگڑا نے میڈیا کو بتایا کہ آکسیجن کی کمی کی بروقت نشاندہی ہونی چاہے تھی لیکن آکسیجن کی کمی اور سٹاف کی ٹریننگ نہ ہونے کے باعث بروقت اقدامات نہ اٹھائے جا سکے۔
وزیر صحت و خزانہ نے کہا کہ افسران اور ملازمین کو ابتدائی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں معطل کیا گیا ہے تاہم مزید کارروائی کے لیے کے ٹی ایچ بورڈ آف گورنرز کو 5 دن کا وقت دیا ہے۔
تیمور جھگڑا نے کہا کہ واقعے کی تفصیلی انکوائری رپورٹ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ کو پیش کی جائے گی جس کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اپنی آزاد انکوائری کرائیں یا نہیں؟ لیکن اس بار روایتی طریقہ کار کے بجائے عملی کارروائی کی جائے گی ,میرے حلقے کا مریض بھی ہسپتال میں داخل تھا اور ہم غمزدہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔











