پشاور،18 دسمبر (اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کہا ہے کہ پیشہ ورانہ فرائض کی بہترین ادائیگی سے پولیس فورس کی قدرو منزلت میں اضافہ کرنے والے تمام افسران و جوان فورس کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی ہر فورم پر کیجائیگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں چارسدہ، لوئر دیر، ہنگو، سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو کے افسروں و جوانوں میں نقد انعامات اور توصیفی اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واضح رہے کہ چارسدہ پولیس نے اڑھائی سالہ معصوم بچی زینب کے اندھے قتل کا سرُراغ لگا کر ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کیا تھا جبکہ لوئر دیر پولیس نے رات کے وقت منڈا میں جندول فلنگ اسٹیشن پر ڈکیتی کے ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کی تھی۔ اس واقعے میں ڈاکووں کی فائرنگ سے اے ایس آئی نصیر خان شہید جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح ہنگو پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر اندر مدیحہ کے قتل کا کیس ٹریس کرکے ملزم کو گرفتار اور بڑی مقدار میں منشیات برآمد کی تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے ان تمام واقعات میں پولیس کی پروفیشنلزم اور دن رات سخت کاوشوں کو سراہا۔ آئی جی پی نے کہا کہ ان اندھوں کیسوں کا کامیابی سے سراغ لگاکر ملزموں کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرنا پولیس کی پیشہ ورانہ کمٹمنٹ اور اچھی پولیسنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئی جی پی نے کہا کہ صوبے میں بہترین پولیسنگ کا کریڈٹ پولیس اور قانون نافذکرنے والی دیگر ایجنسیوں کو برابر جاتا ہے۔ اور ان کے مابین مثالی تعاون اور رابطوں سے صوبہ بھر میں مشکل سے مشکل کیسز کامیابی سے ورک آﺅٹ ہو رہے ہیں۔ آئی جی پی نے تمام انٹیلی جنس اداروں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ ان کے تعاون سے آئندہ بھی صوبے میں ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرکے ان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائیگا۔ آئی جی پی نے کہا کہ سزا کی بجائے انہیں فورس کے جوانوں کو انعام دینے سے بے انتہا پیشہ ورانہ طمانیت اور خوشی ملتی ہے اور انعام یافتہ گان پر زور دیا کہ وہ ہر ایک وقوعہ کو اپنے لیے بطور چیلنج سمجھ کر فرائض سرانجام دیں اور اپنی بہترین کارکردگی سے آئندہ بھی پولیس فورس کا نام روشن کریں۔ اس موقع پر آئی جی پی نے جن پولیس افسروں و جوانوں کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے نوازا۔ ان میں چارسدہ پولیس کے ڈی پی او چارسدہ محمد شعیب خان، ایس پی انوسٹی گیشن مردان ایاز خان، ایس پی انوسٹی گیشن صوابی بنارس خان، ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ درویش خان، ڈی ایس پی سٹی چارسدہ بشیر خان، ایس ایچ او پڑانگ چارسدہ اشفاق خان، پی اے ایس آئی کلیم خان ، پی اے ایس آئی مجیب خان ، پی اے ایس آئی وقاص خان ، پی اےایس آئی موسیٰ خان، ایل ایچ سی طفیل الدین، I/C ڈی ایس بی چارسدہ واصل زیب ، ایچ سی ساجد، ایچ سی ولی الرحمن ، ایف سی واجد ، ضلع لوئر دیر پولیس کے ایس ڈی پی او جندول اعجاز علی، ایس ڈی پی او تیمرگرہ فاروق جان ، ایس ایچ او منڈہ سب انسپکٹر سیف الرحمن، ایچ سی سید رحمان، ہنگوپولیس کے ایس ایچ او دوآبہ مجاہد حسین ، اے ایس آئی سید عبداللہ خان ، آئی ایچ سی بادشاہ حسین ، ایف سی نصیب اللہ، ایف سی بختیار اور ایف سی مہران، سی ٹی ڈی ڈی آئی خان ریجن کے ایس پی شبیر حسین شاہ، ڈی ایس پی گل رﺅف خان، انسپکٹر علی جان، سی ٹی ڈی کوہاٹ ریجن کے عبدالستار خان اور انسپکٹر ملک تاج خان،سی ٹی ڈی ہزارہ ریجن کے ایس پی سعید اختر، انسپکٹر فیصل خان، ایچ سی محمد ارشد، ایچ سی اکرام شاہ اور کمپیوٹر آپریٹر شاکر اقبال اور سی ٹی ڈی پشاور ریجن کے محمد علی شامل تھے۔
ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز ڈاکٹر اشتیاق احمد، ایڈیشنل آئی جی پی انوسٹی گیشن فیروز شاہ، ڈی آئی جی مردان شیر اکبرخان ، ڈی آئی جی کوہاٹ حفیظ طیب چیمہ، ڈی پی او ہنگو شاہد احمد خان، اے آئی جی اسٹمبلشمنٹ ظہور بابر آفریدی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام بھی اس موقع پر موجودتھے۔











