اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی ہدایت پر پارلیمنٹری سیکریٹری ہيومن رائٹس لال چند مالہی نے کرک ضلع کے گائوں ٹیری میں جلائے اور توڑ پھوڑ کا شکار ہونے والے شری پدم ھنس جی مہاراج کے مندر کا دورہ کیا۔ وہاں پر پارلیمانی سیکرٹری نے مقامی امن جرگہ اور مقامی ہندو کمیونٹی سے ملاقات کی۔ امن کمیٹی نے انتظامیہ اور مقامی ھندو کمیونٹی کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلوایا۔ مقامی افراد نے بتایا کہ مندر پر حملہ پولیس کی موجودگی میں ھوا۔ پولیس نے جانی نقصان سے بچنے کے لیے فوری ایکشن سے گریز کیا۔انتظامیہ نے بریفنگ دیتے ہوئے مطلع کیا کہ شری پرم ھنس مہراج کے مندر پر حملہ کرنے والے مرکزی ملزم مولوی محمد شریف کو پولیس حراست میں لے لیا گیا ھے۔ اور اس وقت تک 45 ملزموں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے ھندو برادری کو یقین دلایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور اقلیتی برادری کے مقدس مقامات کی بہی حفاظت کرے گی۔ انہوں نے کہا حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کے مندر پر حملہ کیس کے ملزموں کو کڑی سے کڑی سزا ملے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی عبادت گاہ کو نقصان نا پہنچا سکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات سے ملک کا نام خراب ھوتا ھے جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعظم جناب عمران خان نے ھمیشہ پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کی بات کی ھے جس میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق ھونگے، انھوں نے مزید کہا۔ اس موقعے پر کے پی کے صوبائی وزیر براء اوقاف ظہور شاکر، صوبائی اسپیشل اسسٹنٹ براہ اقلیتی امور وزیر زادہ اور ایم پی اے کے پی کے اسمبلی روی کمار بھی موجود تھے اور ان سے مندر کے معاملے اور مندر کی از سر نو تعمیر پر تفصیلی بات چیت ھوئی۔ وفاقی پارلیمانی سیکریٹری مسلسل متعلقہ حکام سے اس کیس کے بارے میں رابطے میں ھیں تاکہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔











