چھ ماہ  میں ٹیکس کی رقم  2205 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ؛وزیراعظم کی زیر صدارت ٹیکس اصلاحات  اجلاس میں بریفنگ

120

اسلام آباد،10جنوری(اے پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ٹیکس اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال 6 ماہ کی مدت میں ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والی رقم  2205 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

وزیراعظم عمران خان  نے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان پاکستان کے محسن ہیں جو خراجِ تحسین کے حقدار ہیں، نظام میں ایسے اقدامات کا بھی اضافہ کیا جائے جس سے ٹیکس دہندگان کی پذیرائی کی جائے۔

وزیرِ اعظم نے وفاقی وزراء، معاونِ خصوصی رینیو اور چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ساتھ مجموعی طور  پر نظام میں اصلاحات لانے والے حکام کو سراہا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کےٹیکس کے نظام میں متعدد اہم اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام کو خودکار بنایا جارہا ہے اور ٹیکس دہندگان کو ٹیکس دینے پر مراعات اور سہولیات دی جارہی ہیں۔نئے ڈیجیٹل نظام کو اس قدر خودکار بنا دیا گیا ہے کہ اس میں شفافیت کا عنصر نمایاں اور کرپشن و ٹیکس چوری کو کم کیا جا سکے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے ٹیکس فارم کو چھوٹا اور آسان کرکے 5 سے صرف 1 صفحے  پر مشتمل بنایا گیا ہے جس میں 200 اینٹریوں کو کم کرکے صرف 24 تک محدود کر دیا گیا ہے۔

سیلز ٹیکس کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس کی وصول کردہ رقم میں بھی اضافے کا رجحان ہے جس کی بڑی وجہ پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ذریعے کمپنی کا براہِ راست تعلق ایف بی آر کے سسٹم سے قائم ہونا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء عبدالحفیظ شیخ، شبلی فراز، حماد اظہر، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاونِ خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جاوید غنی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔