اسلام آباد،14جنوری (اے پی پی): ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ ملکی آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے جس پر قابو پانے کے لئے تمام مکاتب ہائے فکر کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے ینگ پارلیمینٹیرین فورم ،پاکستان انسٹیوٹ آف پارلیمینٹری سروسز اور پاپولیشن سنیٹر پاکستان کے مابین جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا ۔ مفاہمتی یادداشت کا مقصد بڑھتی ہوئی ملکی آبادی کے چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لئے ینگ پارلیمینٹیرین کے ساتھ مل کر ایڈوکیسی کو فروغ دینا ہے۔
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے مفاہمتی یادداشت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ آبادی بڑھنے کی بنیادی وجہ عوام میں اس سلسلے میں شعور اور آگہی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان اس چیلنج سے بخوبی آگاہ ہے اور اس سلسلے میں عوام میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔
مفاہمتی یادداشت پر وائے پی ایف کی جانب سے اس کی سیکرٹری ممبر قومی اسمبلی عظمی ریاض اورپی سی پی کی جانب سے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فاروق اعظم نے دستخط کئے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج پر قابو پانے کیلئے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ ان سیمینارز میں پاکستان کی آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور نئے مواقع تلاش کرنے کے لئے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔ ان سیمینارز کا مقصد مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان کی نوجوان آبادی اور مقننہ کے مابین فاصلوں کو کم کرنا ہے۔ سیمینارز کو منعقد کرانے میں وائے پی ایس اپنا تعاون اور رہنمائی فراہم کرے گی جبکہ پی آئی پی ایس انتظامی معاملات سر انجام دے گا۔











