چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے ہم اوپن بیلٹنگ سے سینٹ کے الیکشن کو شفاف بنانا چاہتے ہیں؛وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

72

اسلام آباد،4فروری  (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ہم اوپن بیلٹنگ کے ذریعے سینٹ کے الیکشن کو شفاف بنانا چاہتے ہیں تاکہ خرید و فروخت کے ذریعے آئندہ ایسے لوگوں کا انتخاب نہ کیا جائے جو صرف اور صرف اپنی تجوریاں بھرتے ہیں، ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے تاہم ہم نے اپوزیشن کو بے نقاب کردیا ہے، آئینی ترمیم منظور کرا سکیں یا نہ کراسکیں ہم نے اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کردیا ہے، ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم انتخابی اصلاحات کے ذریعے شفافیت لائیں گے،ہم اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور ہماری سمت درست ہے۔اپوزیشن جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا چاہتی ہے۔عوام جانتی ہے کہ اس نظام جمہوریت اور آئین کو کون پامال کر رہا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے اور ان کے لئے دروازے کھولے جائیں، بیرون ملک پاکستانی بھی دیکھ لیں کہ اپوزیشن ان کے مفادات کے لئے کیا کردار ادا کر رہی ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں 26ویں آئینی ترمیم پر بحث جاری رکھتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوم ان کے چہروں کو دیکھ رہی ہے کہ کس طرح انہوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلے ہیں۔ یہ خرید و فروخت کے عادی ہیں۔ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ ہم اصلاحات کرکے شفافیت لائیں گے،یہ ایک سینٹ کی بات نہیں ماضی میں سینٹ کے کئی الیکشن گزرے ہیں جن میں خرید و فروخت کے ذریعے ایسے لوگ سینیٹر منتخب ہو جاتے تھے جن کا نہ کوئی نظریہ تھا نہ کوئی جماعت، تحریک انصاف آئینی اصلاحات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ پارلیمنٹ ایک مقدس ادارہ ہے، اپوزیشن کا رویہ اس تقدس کو پامال کر رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ہم سینٹ میں ایسے لوگوں کا انتخاب چاہتے ہیں جو وفاق پاکستان کا دفاع کرسکیں۔ خرید و فروخت کے ذریعے سینیٹر منتخب ہونے والے اپنی تجوریاں بھریں گے، ہم اس صورتحال کے خاتمے کے لئے بل لے کر آئے ہیں۔ یہ بل ہم نے اپنی کسی ضرورت کے تحت پیش نہیں کیا۔ ماضی میں جن لوگوں نے اپنے ضمیر بیچے اور اپنی قیمت لگوائی تحریک انصاف نے ایسے 20 لوگوں کے خلاف کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کی شق 23 سے بھی یہ غافل ہوگئے ہیں۔ سینٹ میں ہم اقلیت میں تھے،مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے سینٹ میں بحث کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ وہ سینٹ کے شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ ہم بوسیدہ نظام ختم کریں، ہم نے سپریم کورٹ کو ایک مقدم ادارہ سمجھتے ہوئے اس حوالے سے ریفرنس دائر کیا ہے کہ جج صاحبان بتائیں کہ کیا سینٹ میں اوپن بیلٹنگ ہو سکتی ہے۔ وہاں یہ مسئلہ زیر سماعت ہے۔ توقع ہے کہ عدلیہ رہنمائی کرے گی۔

 انہوں نے کہا کہ دوسرا راستہ یہ تھا کہ دو تہائی اکثریت کے ذریعے اس آئینی ترمیم کو منظور کرایا جائے۔ ہمارے پاس دوتہائی اکثریت نہیں ہے، ہمارا مقصد ان کو بے نقاب کرنا تھا، قوم نے ان کا چہرہ دیکھ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی عدالت کے بعد عوام کی عدالت ہے، ہم نے اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کردیا ہے۔ قوم بتائے کہ سینٹ کا الیکشن ان چوروں کے حوالے کرنا ہے یا شفاف بنانا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ لوگ بدعنوانی کے سامنے کھڑی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں۔ ہم نے عوام کے اعتماد کا سودا نہیں کیا ہم نے عوام کے جذبات کا احترام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی قابل قدر پاکستانی اور ملک کا سہارا ہیں۔ ان کی بھجوائی گئی رقوم سے ملک کو فائدہ حاصل ہوتا ہے، ہم چاہتے تھے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے۔ تحریک انصاف بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے دروازے کھولنا چاہتی ہے۔ بل منظور ہو یا نہ ہو ہم اصولی موقف پر قائم رہیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ تو استعفے دینے کے لئے آئے تھے پتہ نہیں راتوں رات کیا ہوا کہ ان کے موقف میں لچک آگئی اور ان کے زاویے بدل گئے۔ سنا ہے کہ ایک بیٹھک میں ایک نئے لانگ مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔ بے شک لانگ مارچ کریں ہم منتخب ہوکر آئے ہیں عوام کے مفادات کا ہر ممکن طریقے سے دفاع کریں گے۔ اپوزیشن جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا چاہتی ہے۔ اس نظام اور آئین کو کوئی پامال کر رہا ہے قوم دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے ان کی بات پر توجہ نہیں دی۔ مینار پاکستان پر ان کا پٹاخہ بج گیا۔ سنا ہے کہ یہ سابق وزیراعظم کو سینٹ میں لا رہے ہیں اور سینٹ کا کسی کو نیا چیئرمین بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ خرید و فروخت کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔ قوم کو فیصلہ کرنا ہے اور منتخب نمائندوں کا امتحان ہے کہ آپ نے شفافیت کو پروان چڑھانا ہے یا ان چوروں کا ساتھ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سمت درست ہے بل منظور کرا سکیں یا نہ کراسکیں ہمارے نظریئے کو فتح حاصل ہوئی۔