کوئٹہ، 12 مارچ (اے پی پی): سماجی رہنماو ں اورسابق لوکل کونسلران نے کہا ہے کہ پائیدارترقی کے اہداف کے حصول کیلئے حکومت کے ساتھ سول سوسائٹی اورلوکل کونسل کاکرداراہمیت کاحامل ہے، ان قوانین پر عملدرآمد کرانے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے، سول سوسائٹی کے متحرک اراکین کو اعتمادمیں لیاجائے تاکہ نچلی سطح سے اس کام کوآگے بڑھایاجاسکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونائیٹڈسٹیزن فارلوکل گورنمنٹ اورلوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن آف بلوچستان کے زیراہتمام UNDPکے تعاون سے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ صوبے سے غربت، بھوک وافلاس اورغذائی قلت کاخاتمہ، ماحولیات اورخوراک کاتحفظ، صنفی برابری کی بنیادپرلوگوں کو روزگار اوردیگرمواقع فراہم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ بہترمنصوبہ بندی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ UNDPان اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہوتا ہے جہاں ان اہداف کے حصول کیلئے طریقہ کارمرتب کرکے ماڈل تشکیل دی گئی جس سے کافی چیزوں پرہمیں کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ UNDPمحکمہ P&Dکے ساتھ مل کر کمپری ہنسیوڈویلپمنٹ اینڈگروتھ اسٹریٹیجی 2020-25پرکام کررہی ہے سماجی رہنماوں نے بتایاکہ ہمارے یہاں 98فیصدمنتخب نمائندوں کو بجٹ اورعوامی فلاح وبہبودکاعلم ہی نہیں ہے اوروہ اسمبلی فلورپرصرف اپنے فنڈزاورٹھیکیداروں کی بات کرتے ہیں جس سے عوام کی زندگیوں میں بہتری ممکن نہیں ترقی کے دورمیں بلوچستان کے لوگوں کو پینے کاصاف پانی میسرنہیں اورہماری مائیں بہنیں دورسے پانی بھرلانے پرمجبورہیں یہاں پرتعلیم اورصحت کے سہولیات نہ ہونے کے برابرہیں۔











