اسلام آباد،2جون (اے پی پی):پاکستان اور تاجکستان کے وزراءخارجہ کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات بدھ کو یہاں منعقد ہوئے۔ دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم سمیت عالمی فورمز پر دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر آئے تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین اور انکے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے وفود کی سطح پرمذاکرات وزارتِ خارجہ میں ہوئے۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ تاجک وفد کی قیادت تاجک وزیر خارجہ مہرالدین سراج الدین نے کی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ” علاقائی ہم آہنگی و یکجہتی کیلئے اسٹریٹیجک شراکت داری کے اگلے مرحلے سے متعلق مشترکہ اعلامیے اور دیگر طے پانے والے معاہدوں کو سراہتے ہوئے، ان معاہدات پر مکمل عملدرآمد کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مابین دو طرفہ تعلقات ،یکساں مذہبی، ثقافتی و تہذیبی اقدار کی بنیاد پر استوار ہیں۔دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات کی موجودہ نوعیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
وزیر خارجہ نے پاکستان اور تاجکستان کے مابین توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، کاسا- 1000 منصوبے کو جلد پایہءتکمیل تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم سمیت عالمی فورمز پر دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر خارجہ نے 2021 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی ملنے پر تاجک ہم منصب کو مبارکباد دی اور پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان،تاجکستان کو گوادر پورٹ کی صورت میں، جنوب مشرقی ایشیائی ، مشرق وسطیٰ، اور افریقہ تک رسائی کا مختصر راستہ فراہم کرتا ہے،یہ بندرگاہیں پاکستان اور تاجکستان، کے مابین دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافے کیلئے معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔دونوں ممالک کو باہمی تجارت کے فروغ کیلئے ان راستوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ نے تاجک ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہندوستان کی جانب سے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدامات کی تنسیخ کیلئے عالمی برادری ہندوستان پر دباؤ ڈالے ۔
دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں قیام امن کیلئے “افغان امن عمل” کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے، جامع مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کے پر امن سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور تاجکستان میں پاکستان کے سفیر عمران حیدر اور وزارت خارجہ کے کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔