یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کے واقعات کے خلاف موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے،  شیریں مزاری

9

اسلام آباد۔8جون  (اے پی پی):وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کے واقعات کے خلاف موثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، مغرب کو اسلامو فوبیا کے حوالے سے منافقانہ رویہ ترک کرنا ہوگا، بھارت کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں کینیڈا میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ کینیڈا میں جو واقعہ ہوا ہے اسے دہشتگردی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔ یہ اسلامو فوبیا کا واقعہ تھا اس میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہمیں واضح کرنا چاہیے کہ یہ دہشتگردی ہے اور اس پر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسے نفرت پر مبنی جرم قرار دے رہے ہیں وہ درست نہیں ہے، یہ رویہ ترک کرنا ہوگا، یہ دہشتگردی کا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس پر حجاب پر پابندی ہے لیکن نن کے لباس پر کوئی پابندی نہیں۔ اسی طرح وہاں پر توہین آمیز خاکوں کو اظہار رائے آزادی قرار دیا جاتا ہے اس منافقت کو ختم ہونا چاہیے اور ہمیں اسلامو فوبیا کے خلاف آگے بڑھ کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس میں طب کے حوالے سے ایک قانون کے تحت اب مسلمان خواتین بھرتی نہیں ہو سکیں گی یہ بھی اسلامو فوبیا ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ کینیڈا میں دو سال پہلے مسجدوں پر حملہ ہوا امریکہ میں بھی اس طرح واقعات ہو رہے ہیں۔ کینیڈین وزیراعظم نے تصدیق کی کہ یہ اسلامو فوبیا کا واقعہ ہے، اس وقت مسلمانوں کے خلاف منظم مہم جاری ہے۔ یورپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ جو مسلمان وہاں رہ رہے ہیں ان کی ایک شناخت ہے۔ وہ وہاں کے شہری ہیں، اور ان کی شناخت کا تحفظ وہاں کی ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ جرمنی میں چرچ کو عطیہ دینے پر ٹیکس مراعات ملتی ہیں تاہم مسجد کو عطیہ دینے پر اس طرح کی ٹیکس مراعات نہیں دی جاتیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہندوستان کشمیر میں مسلمانوں پر دہشتگردی کر رہا ہے، اس پر مسلم امہ اور او آئی سی کی کوئی آواز نہیں آرہی۔ ہمیں ان واقعات کو تمام عالمی فورمز پر اٹھانا چاہیے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کینیڈا میں پیش آنے والے المناک واقعہ پر بحث کی گئی اور ایجنڈے میں موجود بعض اہم امور نمٹائے گئے۔ بعد ازاں اجلاس کے صدر نشیں امجد علی خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردیا۔