فیصل آباد،16جون (اے پی پی):گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ حکومتی کوششوں کے نتیجہ میں صنعت کا پہیہ دوبارہ چل پڑا ہے جس سے ہنر مند افراد کو روز گار کے وافر مواقع میسر آرہے ہیں جبکہ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کیلئے 50ہزار طلبا کووظائف دیئے جارہے ہیں جس کے باعث اب کوئی طالب علم وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم سے محر وم نہیں رہے گا نیز مہنگائی کو کنٹرول اور ذخیرہ اندوزوں کی سرکوبی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ غریب عوام پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
وہ بدھ کو گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 204ر ب کینال روڈ فیصل آباد میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ کورونا واائرس کی وبا کی صورتحال کے باوجود حکومت نے صنعت کا پہیہ بند نہیں ہونے دیا تاکہ مزدور بے روز گار اور ان کے گھرانے فاقہ کشی کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں صنعت اپنے پورے عروج کے ساتھ چل رہی ہے اور روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہونے سمیت ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوا ہے۔
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پہلے غریب آدمی پیسے نہ ہونے کے باعث اپنا علاج معالجہ بھی نہ کروا سکتا تھا لیکن اب رواں سال کے آخر تک پنجاب کے تمام افراد کو نہ صرف صحت کارڈ ملے گا بلکہ وہ 10لاکھ روپے تک اپنی بیماری کا اپنے پسند کے ڈاکٹر سے علاج بھی کروا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں غریبوں، بے روز گاروں، بیواؤں اور بے سہارا افراد کیلئے بھی بھاری رقم مختص کی ہے اسی طرح پناہ گاہیں تعمیر کر کے بے گھر افراد کو چھت اور کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور نا جائز منافع خوری کرنے والے کسی رعائت کے مستحق نہیں لہٰذا ایسے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی فیض اللہ کموکا نے کہا کہ چک نمبر 204ر ب میں ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کر دیا گیا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ علاقہ کی آبادی کے پیش نظر یہاں ایک فلٹریشن پلانٹ کم ہے اسلئے وہ حلقہ میں مزید 2 واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانے کا اعلان کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حلقہ کے عوام نے انہیں ووٹ دے کر بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا تھا اسلئے وہ نہ صرف ان کے شکر گزار ہیں بلکہ یقین دلاتے ہیں کہ علاقہ کی ترقی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس ضمن میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی تاکہ یہ علاقہ بھی شہر کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر آسکے۔











