اسلام آباد،29جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 22-2021کیلئے 8487 ارب روپے حجم کے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی ہے اس میں محصولات کا ہدف5829 ارب روپے مقررکیا گیاہے ،3400 ارب سے زائد کا خسارہ ٹیکس اصلاحات و اندرونی و بیرونی معاونت اورکفایت شعاری سے پورا کیا جائے گا، حکومت کی جانب سے دودھ اورکھانے پینے کی دیگراشیا پرسیلزٹیکس نہیں ہوگا، انٹرنیٹ اورموبائل فونز پربھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے ہے، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ گزشتہ سال کے 2704 ارب روپے سے بڑھ کر 3411 ارب روپے رہے گا، گراس محصولات کا حجم 7909 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جو گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ 6395 ارب روپے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے، نان ٹیکس ریونیو میں 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مجموعی سبسڈیز کا تخمینہ 682 ارب روپے لگایا گیا ہے، احساس پروگرام کے لئے 260 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، شرح نمو کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے، مقامی طور پر بنائی جانے والی 1000 سی سی تک کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ اور سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کیا گیا ہے جبکہ اس پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا خاتمہ کردیا گیاہے ، نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 1.1 ارب ڈالر کی ویکسین درآمد کئے جانے اور جون 2022ء تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقررکیاگیا ہے۔ نئے مالی سال کے وفاقی میزانیہ میں جامع اور پائیدار نمو کے حصول کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے ۔ اگلے سال کے لئے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیاہے ۔
نئے مالی سال کے وفاقی میزانیہ میں کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت کم آمدن ہائوسنگ کی مد میں 20 لاکھ روپے تک سستے قرضے دیئے جائیں گے۔ ہر گھرانے کو صحت کارڈ دیا جائے گا۔ ہر گھرانے کے ایک فرد کو مفت تکنیکی تربیت دی جائے گی۔ ہر کاشتکار گھرانے کو کاشت کے لئے ہر فصل کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا سود سے پاک قرضہ دیا جائیگا ، اسی طرح ٹریکٹر اور مشینی آلات کے لئے دو لاکھ روپے قرض دیا جائے گا۔ ہر شہری گھرانے کو کاروبار کے لئے پانچ لاکھ روپے تک سود سے پاک قرض دیا جائیگا۔نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے اگلے دو سے تین سالوں میں کم سے کم 6 سے 7 فیصد نمو یقینی بنانے کے اہداف کاتعین کیاہے جس کا مقصد نوجوانوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع کی فراہمی ہے ، اس مقصد کے لئے صنعت ،برآمدات ، ہائوسنگ و تعمیرات، کمزور طبقات کے لئے سماجی تحفظ کے پروگرام اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔
زراعت کے شعبے میں جامع منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت بیج، کھاد، زرعی قرضے، ٹریکٹر اور مشینری ، کولڈ ویئر ہائوسز کی تعمیر اور فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری میں مدد کی جائے گی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں احساس پروگرام کے لئے 260 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ صنعتوں اور برآمدات کے لئے خصوصی کوششیں کی جائیں گی۔ کم آمدن گھرانوں کو اپنا گھر خریدنے یا بنانے میں مدد کے لئے تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائیگی اس مقصد کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بنکوں سے 100 ارب روپے کی فراہمی کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 70 ارب روپے کی فراہمی کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کی ادائیگی شروع ہو گئی ہے۔ مختلف سروسز پر منافع کے کم مارجن اور عائد ودہولڈنگ کی زیادہ شرح کے تناظرمیں آئل فیلڈ سروسز، ویئر ہائوسنگ سروسز، کولیکٹرل مینجمنٹ سروسز، سیکیورٹی سروسز اور ٹریول اینڈ ٹور سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس شرح کو آٹھ فیصد سے کم کرکے تین فیصد تک کردیا گیاہے ۔
شوکت ترین نے بتایا کہ موبائل سروسز پر موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس شرح کو 12.5 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیاہے اسے بتدریج 8 فیصد تک کم کردیا جائے گا۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے اقدامات شامل ہیں،یکم جولائی 2021ء سے تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس دیا جائے گا۔ یکم جولائی سے پنشن میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اردلی الائونس 14 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 17500 کردیا گیاہے۔ گریڈ ایک سے پانچ تک کے ملازمین کے انٹیگریٹڈ الائونس 450 روپے سے بڑھا کر 900 روپے کردیا گیاہے۔ کم آمدن کے حامل افراد پر مہنگائی کے دبائو کو کم کرنے کے لئے کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کی گئی ہے ۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں معاشرے کے معاشی طورپرکمزور طبقات کی امداد کے لئے احساس پروگرام کے تحت ایک درجن سے زائد پروگراموں کا آغاز کیا گیا ہے جس میں کیش ٹرانسفر، کامیاب جوان، بلاسود قرضے، نیوٹریشن تحفظ، چھوٹے کاروبار کے آغاز کے لئے مالی امداد، یتیموں، بے سہارا بچوں، مجبوری کے تحت ہجرت کرنے والوں، مزدور بچوں ، جبری مشقت کا شکار افراد اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لئے مالی امداد، غرباء کے لئے کھانوں کی فراہمی کے لئے لنگر، راشن کی تقسیم کے لئے فوڈ کارڈ، کھانے اور دیگر اشیاء کی فروخت کے لئے نئے طرز کے ٹھیلے شامل ہیں۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ گردشی قرضے کو کم اور پھر ختم کرنے کے لئے منصوبہ بندی ، پرائیویٹ پاور پروڈیوسر کے تعاون سے گردشی قرضے کی تشکیل نو، بجلی کی زیادہ کھپت والی صنعتوں کے لئے مراعات، لائن لاسز کم کرنے کے لئے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے عمل میں ضروری سرمایہ کاری، بجلی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے الیکٹرک وہیکل پالیسی کا اعلان اور مجموعی لاگت کم کرنے کے لئے ہائیڈرو اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے سستی بجلی کی پیداوار کا حصول شامل ہے ۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کو مالی سال 2021 کے مقابلہ میں 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کردیا گیاہے جس میں کم ترقی یافتہ علاقوں کوترجیح دی گئی ہے ، پی ایس ڈی پی میں مالی سال 2021 کے مقابلہ میں تقریباً 40 فیصد اضافہ کیا گیاہے۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں خوراک اور پانی کی دستیابی ، توانائی کا تحفظ، روڈ انفراسٹرکچر میں بہتری، چین پاکستان معاشی راہداری پر عملدرآمد میں پیشرفت، خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر اور انہیں فعال بنانے، پائیدار ترقیاتی اہداف، موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، ٹیکنالوجی کی مدد سے علوم میں پیشرفت اور علاقوں کے مابین پائے جانے والے فرق کے تدارک کو ترقیاتی ترجیحات قراردیا گیا ۔
زرعی شعبے میں ٹڈی دل، ایمرجنسی اور فوڈ سیکیورٹی پراجیکٹ کے لئے ایک ارب روپے، چاول، گندم، کپاس ،گنے اور دالوں کی پیداوار میں اضافے کے لئے دو ارب روپے ، تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت بڑھانے کے لئے ایک ارب روپے، آبی گزرگاہوں کی مرمت اور بہتری کے لئے تین ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ آبی تحفظ کے لئے 91 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے لئے 57 ارب روپے، دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 23 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لئے چھ ارب روپے اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے 14 ارب روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ۔
نئے مالی سال 2021-22کے وفاقی بجٹ میں کراچی لاہور موٹروے کی تکمیل، حویلیاں تھاہ کوٹ اور شاہراہ قراقرم فیز ٹو، ژوب کچلاک روڈ، چترال بونی مستوج شندور روڈ کی مرمت اور توسیع، پاکستان ریلویز کی مین لائن ایم ایل ون کی بہتری اور حویلیاں کے قریب ڈرائی پورٹ کی تعمیر اور چین اور دیگر ممالک سے فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کے ساتھ اکنامک زونز کی آبادکاری کو اہم ترجیحات میں شامل کیاگیاہیں۔ ایم ایل ون منصوبے کوتین پیکجز میں مکمل کیا جائے گا۔ پیکج ون کا آغاز مارچ 2020ء میں ہو چکا ہے جبکہ پیکج ٹو کا آغاز جولائی اور پیکج تھری کا آغاز جولائی 2022ء میں ہوگا۔ ملک میں بجلی کی پیداواری گنجائش فاضل ہے تاہم ساری کی ساری بجلی اینڈ یوزر تک ترسیل کرنے کے قابل نہیں ہیں، اس کے لئے اسلام آباد ویسٹ اور لاہور نارتھ ایک ہزار کے وی ٹرانسمیشن لائنز کے لئے 7.5 ارب روپے، داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 8.5 ارب روپے، سکی کناری، کوہالہ، ماہل ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ساڑھے پانچ ارب اور حیدرآباد سکھر سیکنڈری ٹرانسمیشن لائنز کے لئے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ جامشورو میں کوئلے کی مدد سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی میں کے ون اور کے ٹو منصوبے اور تربیلا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پانچویں توسیع کے لئے ساڑھے 16 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پسماندہ علاقوں کی ترقی یقینی بنانے کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکج دئیے گئے ہیں اس مقصد کے لئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ جنوبی بلوچستان کے لئے ترقیاتی منصوبے کے تحت 601 ارب روپے کی لاگت سے 199 منصوبوں کی فنڈنگ پر مشتمل پیکج کے تحت اس بجٹ میں 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا کل حجم 739 ارب روپے ہے جس کے لئے 98 ارب روپے وفاقی حکومت دے گی جبکہ سرکاری و نجی شعبہ کے اشتراک سے 509 ارب روپے اور سپریم کورٹ فنڈ سے 125 ارب روپے دیئے جائیں گے۔ اس پلان کے تحت نالوں، دریائوں، سڑکوں کی تعمیر ، ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس اور واٹر سپلائی کی سہولت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں گلگت بلتستان سماجی اقتصادی ترقی کے لئے 40 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ سندھ کے 14 سے زائد اضلاع کے لئے ترقیاتی منصوبہ کے تحت بجٹ میں ساڑھے 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لئے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ان میں سے 30 ارب روپے دس سالہ ترقیاتی منصوبے کے لئے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے تحت 710 ارب روپے کے منصوبوں پر آئندہ مالی سال میں کام شروع ہوگا۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے 14 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ سماجی شعبہ کے لئے 118 ارب روپے کے فنڈز مختص ہیں جن میں سے 30 ارب روپے صحت، 44 ارب روپے اعلیٰ تعلیم، 68 ارب روپے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول اور 16 ارب روپے ماحولیات کو بہتر بنانے کے لئے رکھے گئے ہیں۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں گراس ریونیو کا تخمینہ 7909 رکھا گیا ہے جو جاری مالی سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ایف بی آر کے محاصل کا ہدف مالی سال 2021 کے 4691 ارب روپے کے مقابلہ میں 24 فیصد بڑھوتری کے ساتھ 5829 ارب روپے مقررکیا گیاہے ۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ گزشتہ سال کے 2704 ارب روپے سے بڑھ کر 3411 ارب روپے رہے گا جو 25 فیصد اضافہ ہوگا صوبوں کو منتقلی کے بعد خالص وفاقی محاصل کے بعد تخمینہ 4497 ارب روپے ہے جو 22 فیصد اضافی ہے۔ وفاقی اخراجات 8487 ارب روپے رہیں گے ۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں رواں اخراجات میں سے سود کی ادائیگی اور کویڈ 19 پر ایک بار اخراجات کو نکال کر رواں اخراجات میں 12 فیصد اضافے کی توقع ہے، نئے مالی سال کے بجٹ میں 682 ارب روپے کی سبسڈیز دی جائیگی ۔ اس میں آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیاں، ٹیرف میں فرق کی بناء پر دی جانے والی سبسڈی اور خوراک کی اشیاء پر دی جانے والی سبسڈی شامل ہیں۔
نئے وفاقی بجٹ میں احساس پروگرام کے لئے مختص فنڈز میں مجموعی طورپر24 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ احساس پروگرام کے بجٹ کو جاری مالی سال کے 210 ارب روپے سے بڑھا کر260 ارب روپے کردیا گیاہے۔ نئے مالی سال 2021-22ء کا مجموعی بجٹ خسارہ 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے ۔ پرائمری خسارہ کا ہدف 0.7 فیصد ہے جوکہ رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ کے مطابق 1.2 فیصد لگایا گیا ہے۔ پرائمری خسارہ کا یہ ہدف مقرر کرکے حکومت تین سالوں میں پرائمری خسارہ 3.2 فیصد کی کل کمی لانے میں کامیاب رہے گی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اہم اخراجاتی ترجیحات میں عوام کی ویکسی نیشن کے لئے 1.1 ارب ڈالر ویکسین کی درآمد پر خرچ کئے جائیں گے۔ جون 2022ء تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقررکیاگیا ہے۔ یونیورسل ہیلتھ کوریج کو مزید وسعت دی جائے گی۔ ایس ایم ای سپورٹ پروگرام کے لئے 12 ارب روپے اورکامیاب پاکستان پروگرام کے لئے 10 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، وزیراعظم کی ہدایت پر اینٹی ریپ فنڈ کے قیام کیلئے ابتدائی طور پر دس کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کا بجٹ 66 ارب روپے جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لئے اسے 44 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ بعد ازاں اس میں 15 ارب روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں برآمدی شعبہ کے لئے سپورٹ فنڈ فراہم کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ سرکاری اداروں کے لئے امداد کی مد میں پی آئی اے کیلئے 20 ارب اور سٹیل ملز کے لئے 16 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں۔ خصوصی علاقوں کی امداد کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے بجٹ کو 54 ارب روپے سے بڑھا کر 60 ارب جبکہ گلگت بلتستان کے بجٹ کو 32 ارب سے بڑھا کر 47 ارب روپے کردیا گیاہے ۔ سندھ کو 19 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ اور بلوچستان کو این ایف سی حصے کے علاوہ مزید 10 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے ۔
نئے مالی سال میں مردم شماری 2022ء کے لئے 5 ارب روپے کے فنڈز وفاقی حصے کے طور پرمختص کئے گئے ہیں ۔ بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات کے لئے 5 ارب روپے اور کوویڈ 19 ایمرجنسی فنڈ کی مد میں 100 ارب روپے رکھے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں موجودہ ٹیکس گزاروں کا تحفظ کیا گیاہے تاکہ ان کے واجب الادا ٹیکس پر مزید کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ٹیکس پالیسی کے مختلف اصولوں میں تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ۔ ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ای آڈٹ سسٹم کے تحت آڈٹ کے لئے باہر سے آڈیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا۔ جان بوجھ کر چھپائی گئی معلومات یا ٹیکس چوری مجرمانہ تصور ہوگی جس پر جیل جانے کی سزا دی جائے گی۔ خود تشخیصی سکیم کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے گا جس کے تحت ہر شخص اپنے ٹیکس گوشوارے خود بنا کر ایف بی آر کو بھیجے گا۔ ٹیکس مشینری کو ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف اور ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والوں کے خلاف مزید متحرک کیا جائیگا۔ ٹریک اینڈ ٹریس کے نظام کو ابتدائی طور پر چار صنعتوں کے لئے شروع کیا جائے گا۔ جی ایس ٹی نیٹ میں اضافے کے لئے تمام ریٹیل اور ہول سیل ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ کسٹمر کے لئے ہر ماہ قرعہ اندازی کے بعد سیلز ٹیکس وصولی پر انعامات تقسیم کئے جائیں گے ۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پاکستان سنگل ونڈوز پراجیکٹ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ سروسز میں سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی لانے کے لئے صوبوں کے ساتھ مشاورت کی جائیگی ۔ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت گھریلو صنعت کے سالانہ ٹرن اوور میں اضافہ کیا گیا ہے ، اس کے تحت دس ملین روپے تک کی سالانہ ٹرن اوور والی صنعت کو سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ قبل ازیں تین ملین تک ٹرن اوور رکھنے والے چھوٹے کاروبار کو بھی سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا پڑتا تھا۔ کاروبار میں آسانیوں کے لئے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان میں فرنیچر کے کاروبار سے منسلک ٹیر ون ریٹیلر دکان کے رقبہ میں دگنا اضافہ، ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کے لئے معاوضے کے دائرہ کار میں اضافہ اور واجب الادا سیلز ٹیکس کو ایڈوانس ادائیگی سے استثنیٰ دیا گیا ہے ۔
ضم شدہ اضلاع کی صنعتوں کے لئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ دی گئی ہے ۔ پھلوں کے رس پر عائد فیڈریل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ کردیا گیا ہے ۔ قرآن پاک کی اشاعت میں استعمال ہونے والے کاغذ پر چھوٹ کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے ۔ مقامی طور پر تیار کی گئی الیکٹرک گاڑیوں کے لئے سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فیصد سے ایک فیصد تک کمی ، الیکٹرک گاڑیوں اور سی کے ڈی کٹس کی درآمد پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس کی چھوٹ اور چار پہیوں والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ دیدی گئی ہے ۔آٹو ڈس ایبل سرنج اور آکسیجن سلنڈر پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے ۔ خصوصی ٹیکنالوجی زونز، زرعی اجناس کے ذخیرہ گوداموں پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے ۔ ٹیلی کام خدمات پر فیڈریل ایکسائز ڈیوٹی 17 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد کردی گئی ہے ۔ مرچنٹ ڈسکائوٹ ریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ دی گئی ہے ۔ ایف بی آر سے منسلک شدہ ٹیر ون ریٹیلرز کی طرف سے دی گئی الیکٹرانک رسید پر قرعہ اندازی کے بعد ماہانہ بنیادوں پر 250 ملین روپے کے انعامات خریداروں کو دیئے جائیں گے۔
ٹیلی مواصلات خدمات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کی تجویز واپس لی گئی ہے ، وزیرخزانہ نے بجٹ تقریر میں 3 منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل فون کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پیغامات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنے کی تجویز دی تھی ۔ نئے وفاقی بجٹ میں چینی کی قیمتوں میں بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لئے چینی کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیا گیاہے تاکہ ٹیکس اصل مارکیٹ قیمت پر لاگو ہو۔ ری کلیمڈ لیڈ اور استعمال شدہ لیڈ بیٹریوں پر سیلز ٹیکس ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیاگیاہے ۔
نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں انکم ٹیکس کے حوالے سے شوکاز نوٹس کی انجام دہی کے لئے متعین وقت کی حد کو 120 دن کئے جانے ، کسٹمر کے ایڈوانس ٹیکس اندازے کو رد کرنے کا اختیار ختم کردیا گیاہے ۔ ٹیکس حکام کے آڈٹ اور انکوائری کے لئے صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایف بی آر کی بجائے تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرایا جائے گا۔ ری فنڈ حاصل کرنے کے لئے ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے خودکار ری فنڈ کا مرکزی نظام قائم کیا جائیگا۔ کارپوریٹ ٹیکس گزاروں کے استثنیٰ سرٹیفکیٹ کے اجراء کو 15 ایام کے اندر یقینی بنایا جائیگا ۔نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں الیکٹرانک سماعت کے نظام کو متعارف کرایا جارہا ہے۔ متبادل تنازعات حل کی متبادل کمیٹیوں کو مضبوط کیا جائیگاجس کے تحت کمیٹی کی تشکیل کے لئے درکار وقت کو 60 دن سے کم کرکے 30 اور کیسز پر فیصلہ کی مدت 120 دنوں سے کم کرکے 60 دن کردیا گیاہے ۔ ودہولڈنگ ٹیکس رجیم میں 40 فیصد کمی کی جائیگی ،12 ودہولڈنگ شقوں کو ختم کردیا گیا ہے جن میں بنکنگ ٹرانزیکشنز، پاکستان سٹاک ایکسچینج، مارجن فنانسنگ، ایئر ٹریول سروسز، قرض اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز اور معدنیات کی دریافت شامل ہے۔ کوویڈ 19 وباء کی وجہ سے کیپٹل مارکیٹ پرپڑنے والے اثرات کے تناظرمیں نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کیپیٹل گین ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کردیا گیاہے ۔ پراپرٹی آمدنی پر نقصانات کی ایڈجسٹمنٹ کی جائیگی ۔
این جی اوز جیسے عبدالستار ایدھی فائونڈیشن، انڈس ہسپتال اینڈ نیٹ ورک، پیشنٹ ایڈ فائونڈیشن، سندس فائونڈیشن، سٹیزنز فائونڈیشن اور علی زیب فائونڈیشن وغیرہ کو غیر مشروط ٹیکس چھوٹ دی جائیگی ۔ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ٹرن اوور بنیاد پر متبادل کم از کم ٹیکس کے بارے میں تین تجاویز پیش کی گئی ہیں ان میں افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لئے ٹرن اوور کی بنیاد کم سے کم دس کروڑ روپے تک کئے جانے، عمومی ٹیکس شرح کو 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 کرنے کی تجاویز رکھی گئی ہے۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں کتابوں، رسالوں، زرعی آلات اور 850 سی سی تک کاروں کے سی بی یو کی درآمد کو ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے ۔ ٹیکس قوانین کی عدم تعمیل اور اکائونٹ نوٹیفائی نہ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ نئے مالی سا ل کے وفاقی میزانیہ میں چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار ایس ایم ایز کے لئے فکس ٹیکس سکیم متعارف کرائی گئی ہے ۔ آئی ٹی سروسز، فری لانسز اور دوسری سروسز کی برآمد کو فروغ دینے کے لئے ایک خصوصی ٹیکس رجیم متعارف کرایا گیاہے ۔ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کو ریلیف کی مد میں متعلقہ سروسز کی ایکسپورٹ کو سو فیصد ٹیکس کریڈٹ کے دائرہ کار میں لایا گیا ہے۔ سپیشل اکنامک زون انٹرپرائزز کو ٹیکس 2021ء سے کم از کم ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔ سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹیز کی تشکیل موجودہ حکومت کا بڑا اقدام ہے۔ جدت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کے فروغ کے لئے خصوصی ٹیکس مراعات کے تحت دس سالہ ٹیکس چھوٹ، کیپٹل گڈز کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ، زون انٹرپرائزز میں سرمایہ کاری سے پرائیویٹ فنڈز سے حاصل کردہ آمدنی کے منافع پر ٹیکس چھوٹ بھی نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں شامل ہے۔ بجٹ میں لائیو سٹاک پولٹری اور زراعت کے شعبہ کو ریلیف کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ مویشیوں کی دوا کے لئے ویکسین کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ پولٹری سیکٹر کی خوراک میں شامل اجزاء پر ٹیرف میں چھوٹ، آٹو سیکٹر میں پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈل بنانے والوں کو ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے ۔ ان اقدامات سے حکومت کی میری گاڑی سکیم کو کامیابی ملے گی۔ اس طرح چھوٹی گاڑیوں کی قیمت کم ہوگی۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لئے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی گئی ہے ۔
کوویڈ 19 سے متعلقہ میڈیکل سامان اور اشیاء پر چھوٹ کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کردی گئی ہے ۔ 300 سے زائد ایکٹیو فارما سیوٹیکل اجزاء کو کسٹم ڈیوٹیز ادائیگی سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کو دنیا میں سیر و سیاحت کے لئے دوست ملک بنانے کی تکمیل کے ضمن میں سیاحتی شعبہ کو خاص طور پر توجہ دی گئی ہے۔ سیاحت سے وابستہ اہم مینوفیکچرنگ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کے لئے ان میں استعمال ہونے والے خام مال اور اشیاء کو یا تو صفر فیصد کسٹمز ڈیوٹی سلیب میں شامل کردیا گیا ہے یا پھر مراعاتی ریٹس دے دیئے گئے ہیں۔ ریگولیٹری ڈیوٹی پر بھی نظرثانی کی گئی ہے اور بہت سی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی یا تو ختم کردی گئی ہے یا پھر کم کردی گئی ہے۔ ن
ئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بارڈر مینجمنٹ جیسے اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پاکستان سنگل ونڈوز پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد 74 سے زائد حکومتی اداروں اور پورٹ کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک کردیا جائے گا۔











