اسلام آباد،16جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاتی ہے، اب تک 28 کے قریب اشتہارات اور ڈراموں کے خلاف کارروائی کی گئی، فحاشی کو فروغ نہیں دیا جاسکتا ، اس پر سپریم کورٹ کی واضح ہدایات موجود ہیں۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں ٹیلی ویژن چینلز پر بڑھتی ہوئی بے حیائی سے متعلق مولانا عبدالاکبر چترالی ، محمد انور، شاہدہ اختر علی، عبدالشکور اور صلاح الدین ایوبی کے توجہ مبذول نوٹس پر وزیر مملکت فرخ حبیب نے ایوان کو بتایا کہ پیمرا کا پورا ضابطہ اخلاق موجود ہے۔ پیمرا نے 2015ء میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر ضابطہ اخلاق مرتب کیا تھا، اس کے تحت 365 شوکاز نوٹس جاری کئے گئے جبکہ 28 کے قریب اشتہارات اور ڈراموں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس ضمن میں دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاتا ہے اور اب تک اڑھائی کروڑ کے جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پیمرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے ہفتے تمام ٹی وی چینلز کو ایڈوائزری جاری کرے اور اس ایڈوائزری کی کاپی ایوان میں بھی پیش کریں گے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاص چینل یا ڈرامے پر کوئی اعتراض ہے تو وہ دے دی جائے اس پر کارروائی ہوگی۔ پیمرا میں کونسل آف کمپلینٹ کا طریقہ کار موجود ہے اور ماضی میں بھی درخواستوں پر کارروائی ہوئی ہے۔ اگر پیمرا کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوگی تو اس پر ضرور کارروائی کی جائے گی۔
مولانا محمد انور کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کا پارٹ تھری بہت واضح ہے، اس کی خلاف ورزی پر پیمرا کے تحت فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہماری روایات اور اقدار کی خلاف ورزی نہ ہو۔ شاہدہ اختر علی کے سوال پر وزیر مملکت نے کہا کہ پیمرا کے تحت مانیٹرنگ کا پورا نظام موجود ہے۔ قبل ازیں ڈرامہ اور اشتہارات سے متعلق اعتراضات پر انہیں آن ایئر ہونے سے روکا گیا اور قابل اعتراض متن ہٹانے پر ڈرامے اور اشتہارات جاری ہوئے، ہماری کوشش ہے کہ اظہار رائے کی آزادی بھی متاثر نہ ہو اور پیمرا کے قوانین پر بھی عملدرآمد یقینی بنایا جاسکے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ ارکان کے آئندہ ہفتے پیمرا کے دورے کے لئے انتظامات کئے جائیں گے تاکہ وہ خود جاکر اس حوالے سے طے کردہ طریقہ کار کا خود جائزہ لے سکیں۔
عبدالشکور کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اب تک 28 کے قریب اشتہارات پر پابندی لگائی گئی ہے، ہمارے پاس اس حوالے سے پوری لسٹ موجود ہے۔ بھارتی مواد، نازیبا زبان اور اس طرح کے دیگر امور پر کارروائی ہوتی ہے، اگر کسی خاص چینل کے حوالے سے کوئی شکایت ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ سید محمود شاہ اور صلاح الدین ایوبی کے سوال پر وزیر مملکت نے کہا کہ ڈرامہ اور اشتہارات کا متن ہماری بنیادی اساس اور روایات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان ہماری اجتماعی دانش کا مرکز ہے، اس حوالے سے تجاویز اور آرا سامنے آنی چاہئیں، فحاشی کو فروغ نہیں دیا جاسکتا ، اس بارے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات موجود ہیں۔ بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے معاملہ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے سپرد کردیا۔
قومی اسمبلی نے دارالحکومت اسلام آباد کی علاقائی حدود میں بزرگ شہریوں کے بل 2021 کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریک پیش کی کہ دارالحکومت اسلام آباد کی علاقائی حدود میں بزرگ شہریوں کے بل 2021 کو سینٹ کی جانب سے ترامیم کے ساتھ منظور کردہ صورت میں فی الفور زیر غور لایا جائے۔
قومی اسمبلی سے تحریک کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بل کی تمام شقوں کو ایوان کی منظوری کے لئے پیش کیا۔ ایوان نے تمام شقوں کی منظوری دے دی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے تحریک پیش کی کہ دارالحکومت اسلام آباد کی علاقائی حدود میں بزرگ شہریوں کا بل 2021منظور کیا جائے، قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے قومی اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سمیت قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی حقوق کا انتہائی اہم بل ہے جس کی منظوری پر پورے ایوان کی شکرگزار ہوں۔ بل کی منظوری سے دارالحکومت اسلام آباد کی علاقائی حدود میں رہائش پذیر بزرگ شہریوں کی بہبود، آرام اور وقار کا خیال رکھا جاسکے گا۔
قومی اسمبلی میں سابق صدر ممنون حسین اور پسنی میں دہشت گردی کی کارروائی میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کے کہنے پر مولانا عبدالاکبر چترالی نے سابق صدر ممنون حسین اور پسنی میں دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی میں شہادت پانے والے فوجی جوانوں کے ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کرائی۔











