افغان مسئلے کا حل فریقین کے درمیان مذاکرات میں ہے، افغانستان میں ہمارا کوئی پسندیدہ فریق نہیں ہے ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس

13

پاک ریل

اسلام آباد۔6اگست  (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق سلامتی کونسل اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کی درخواست کو تسلیم نہیں کیا گیا،بھارت کوسلامتی کونسل کے صدرکی حیثیت سے ایسارویہ زیب نہیں دیتا۔افغانستان میں امن کیلئے عالمی برادری کو کردار اداکرنا ہوگا،پاکستان افغانستان میں کسی فوجی قبضے کے حق میں نہیں،افغانستان میں ہمارا کردار معاونت کا ہے ،ضامن کا نہیں۔افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے،پاکستان پر افغان مذاکرات کی ناکامیوں کا ملبہ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں سی پیک منصوبے پرکام جاری رہےگا۔پیر کو وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چھ اگست کو افغانستان کی صورتحال پر سیکورٹی کونسل کی خصوصی بریفنگ ہوئی جبکہ (آج) پیر کو وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں ہمیں سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں بلایا جانا چاہیے تھا،ہم نے اس حوالے سے باقاعدہ درخواست بھی دی لیکن اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔رواںماہ جب سیکورٹی کونسل کی صدارت ہندوستان کو ایک ماہ کے لیے سونپی گئی تو ہم نے واضح کیا تھا کہ ہندوستان ذمہ دارانہ رویہ اپنائے،مگر سیکورٹی کونسل کی مستقل ممبرشپ کے خواہاں بھارت نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔بھارت کو سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے ایسا رویہ زیب نہیں دیتا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا کردار افغانستان میں معاونت کا ہے ،ہم افغانستان میں امن کے ضامن نہیں ہیں۔ہم پہلے سے کہتے آرہے ہیں کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں،یہ تنازعہ صرف سیاسی مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔پاکستان سمجھتاہے مسئلے کاحل افغان فریقوں پر مشتمل مذاکرات میں ہے۔پاکستان نے طالبان کو مذاکراتی ٹیبل پر لانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن بدقسمتی سے دوسروں کی ناکامی کاملبہ پاکستان پر ڈالا جارہاہے ،افسوس ہے کہ پاکستان کوقربانی کابکرابنانے کی کو شش کی جارہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں ہماراکوئی پسندیدہ فریق نہیں۔وزیرخارجہ نے کہا کہ افغان حکومت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کیلئے بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے الزام تراشی کے بجائے پائیدار امن کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے۔افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام سے پاکستان کو بھی نقصان ہوگا۔ہم افغان تنازعہ کی جانی ومالی قیمت ادا کرچکے  ہیں ،امن کی خاطر پاکستان نے ہزاروں جانیں قربان کیں۔وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کوافغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔شاہ محمودقریشی نے کہ افغان فورسز کی ناکامیوں کیلئے پاکستان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کیلئے عالمی برادری کو کردار اداکرنا پڑےگا۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ سپائلرز افغانستان میں بھی ہیں اور باہر بھی موجود ہیں، بعض عناصر امن و استحکام نہیں چاہتے اور پاکستان کو سینڈوچ کی پوزیشن پر رکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں افغان عوام کیلئے کر رہے ہیں۔افغان عوام بھی امن و استحکام چاہتے ہیں اور علاقائی و بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ داسو حملے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ داسوحملے کی تحقیقات سے چینی حکام کوآگاہ کردیاگیاہے،تحقیقات کے نتائج جلد میڈیا کے سامنے رکھیں گے۔