اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بی آئی ایس پی سے جعلسازی پر گریڈ 21 کے آفیسران سمیت لاکھوں لوگوں کو نکالا گیا، مستحق افراد کا ڈیٹا مرتب کرنے کے بعد اب انہیں ان کی دہلیز پر امداد مل رہی ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مسرت رفیق مہیسڑ کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان بیت المال کے لئے2020-21ء میں 6 ارب 10 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے۔ مختلف سکیموں کے لئے تین ارب 82 کروڑ روپے بیت المال، 170 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور تخفیف غربت فنڈ احساس پروگرام کا فنڈ 25 ارب 83 کروڑ روپے مختص کیا گیا۔ مستحق افراد کا ڈیٹا مرتب کیا جارہا ہے۔ اب براہ راست حقداروں کو ان کی دہلیز پر شفاف طریقے سے یہ رقم دی جارہی ہے۔ ناز بلوچ کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس پر بی آئی ایس پروگرام سے لاکھوں غیر مستحق نکالے گئے، تصدیق بی آئی ایس پی مراکز پر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت مالی سال 2020-21ء کے دوران تین ارب 66 کروڑ روپے تقسیم کئے گئے ، ان میں ایک ارب 61 کروڑ ایڈمیشن کمپلائنس پے منٹ جبکہ دو ارب چار کروڑ اٹینڈنس کمپلائنس پے منٹ کی مد میں دیئے گئے۔ نشوونما سی سی ٹی پروگرام کے تحت ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے مستحقین میں تقسیم کئے گئے۔ ملک بھر میں 19 پناہ گاہیں بنائی گئیں۔











