اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلہ کے فوجی حل کی مخالفت کرتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جاۓ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کی جانب سے نامزد یا منتخب کردہ کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے، افغان عوام جس حکومت کو بھی اپنا نمائندہ سمجھیں گے پاکستان اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ طالبان کے کنٹرول کا انحصار اس کی نوعیت پر ہے، اگر طالبان کے کنٹرول میں سب فریق شامل ہوں تو یہ افغانستاں کے لیے بہترین آپشن ہے، اگر یہ سب کی نمائندہ حکومت ہے لیکن اگر یہ کسی ایک فریق کی حکومت ہے اور سارے افغانستان میں جنگ ہورہی ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ اگر طالبان فوجی قبضے کے نتیجے میں اپنی حکومت قائم کرلیتے ہیں تو اس سے مراد طویل خانہ جنگی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پہلی ترجیح افغانستان میں جنگ بندی ہونی چاہیے کیونکہ شہری متاثر ہو رہے ہیں، یہ صورت حال اور ابتر ہو جائے گی اگر جنگ جاری رہتی ہے اور بڑے شہروں میں پھیل جاتی ہے، جنگ کے بڑے شہروں میں پھیلنے سے بڑی تعدا میں ہلاکتوں کا امکان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر قیمت پر جنگ بندی ہونی چاہیے اور دوحہ مذکرات کے پیش نظر بھی یہی ہے، میں کسی فوجی حل کا حامی نہیں ہوں، ایک سیاستدان کے طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں ہمیشہ سیاسی حل کوہی تلاش کرنا چاہیے، ہمیں امید کرنا چاہیے کہ اس مسئلے کا کوئی سیاسی تصفیہ ہو لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے اگر طالبان اس بات کو مد نظر رکھیں کہ وہ فوجی ذرائع سے پورے افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکتے اور افغان حکومت بھی اس بات کا احساس کرے کہ انہیں جنگ بند کرنی ہے اور انہیں بھی سمجھوتے کرنا ہوں گے۔











