اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں کسی مخصوص گروپ کی حمایت نہیں کررہا ہے، موجودہ حالات میں افغانستان میں سیاسی مفاہمت مشکل نظر آرہی ہے، افغانستان میں جو بھی حکومت بنے گی پاکستان اس کے ساتھ کام کرے گا، افغانستان میں ممکنہ طویل خانہ جنگی کی صورت میں افغانستان کے بعد دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہوگا، واضح کردیا ہے کہ پاکستان فوجی اڈوں کی اجازت نہیں دے گا، نہیں چاہتے کہ ہماری سرزمین افغانستان میں حملوں کے لئے استعمال ہو، افغان حکومت ہر طرح کی حکومتی اور انتظامی خرابیوں کا الزام پاکستان پر لگارہی ہے، امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کسی معاہدے پر پہنچ جائے۔ وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ افغانستان کی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکل آئے گا لیکن اس وقت ایسا بہت مشکل نظر آ رہا ہے، یہ مشکل اس لیے ہے کیونکہ طالبان انکار کر رہے ہیں، طالبان کی سینئر قیادت پاکستان آئی تھی اور ہم نے انہیں منانے کی کوشش کی کہ وہ کسی سیاسی حل کی جانب آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی حل ہی افغانستاں کو انتشار کی جانب جانے سے روک سکتا ہے، بدقسمتی سے جب طالبان یہاں آئے انہوں نے اشرف غنی سے مذاکرات سے انکار کردیا، ان کی شرط یہ ہے کہ جب تک اشرف غنی اقتدار میں ہیں وہ افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 2019 میں جب پاکستان نے طالبان کو امریکہ سے بات چیت پر راضی کیا تھا تو میں نے تجویز پیش کی تھی کہ انتخابات سے قبل وہاں ایک عبوری حکومت ہونی چاہیے تاکہ انتخابات میں سب فریقین شامل ہوں، افغان حکومت نے عبوری حکومت کے خیال کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے انتخابات کرائے اورصدر اشرف غنی منتخب ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جب اشرف غنی صدر منتخب ہو گئے اور طالبان اس عمل میں شریک نہیں ہوئے، اشرف غنی نے اصرار کیا کہ طالبان ان سے بات کریں اور طالبان نے نہ ہی انہیں اورنہ ہی انتخابات کو تسلیم کیا ، طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات سے انکار کردیا اور اس طرح اس مسئلے نے جنم لیا اور یہ مسئلہ اب بھی جوں کا توں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان حکومت سمجھتی ہے کہ ہمارے پاس کوئی جادوئی طاقت ہے کہ ہم جیسا چاہیں گے اس پر طالبان کو راضی کرلیں گے، جب امریکیوں نے اپنے فوجی واپس بھیجنا شروع کیے اور خاص کر جب انہوں نے انخلاء کی تاریخ کا اعلان کیا تو اس کے بعد طالبان پر ہمارا اثر و رسوخ انتہائی کم ہوگیا کیونکہ طالبان نے سمجھا کہ انہوں نے جنگ جیت لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ممکنہ طویل خانہ جنگی کی صورت میں افغانستان کے بعد دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہوگا، ہم سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، پہلی وجہ یہ ہے کہ افغانستان سے زیادہ پختون پاکستان میں ہیں، طالبان بنیادی طور پر پختونوں کی تحریک ہے اور اس کے اثرات پاکستانی علاقوں میں آئیں گے، 2003 اور 2004 کے بعد ایسا ہوچکا ہے اور ہمارے پختوں علاقوں میں افغانستان کی صورت حال کے نتیجے میں رد عمل آیا اور پاکستان کو 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ ہم نے امریکہ کی حمایت کی تھی۔











