اسلام آباد،13ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور نے کہا ہے کہ پاکستان سی پیک کے تحت تعمیر و ترقی کے سفر کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اسے دوطرفہ تجارت اور تعاون کے لئے محفوظ استہ بنا رہا ہے، فیڈیمک زون میں اب تک 845 ملین ڈالر کی چینی سرمایہ کاری آ چکی ہے، مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس 23 یا 24 ستمبر کو منعقد ہو گا، چینی سرمایہ کاروں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، بھارت اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہو گا، سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک میں اب تک 25ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آ چکی ہے، 12ارب ڈالر کے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں ، منصوبوں سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر ہو ئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنی فیبریکیٹڈ گھروں کی ٹیکنالوجی لے کر آئی ہے،5 مرلے کا گھر تقریباً 40 لاکھ روپے سے 40 دنوں میں تیار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت جلد الیکٹرک گاڑیاں کثیر تعداد میں نظر آئیں گی، 5 ایکڑ زمین پر فیکٹری قائم کی ہے اور تقریباً چین کی سیرامکس کی کمپنی ٹائلز کی تیاری کیلئے سرمایہ کاری کر رہی ہے،135 ایکڑ زمین پر 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جتنے بھی چینی سرمایہ کار ہیں سب کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور ان کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے زراعت کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے جبکہ پاکستان نے زراعت کے شعبے میں وہ خاص مقام حاصل نہیں کیا جو ایک زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کو حاصل کرنا چاہئے تھا۔
خالد منصور نے کہا کہ پاکستان زرعی شعبے میں چین کے تجربات سے بھر پور استفادہ کرنا چاہتا ہے تاکہ زرعی پیداوار کو بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جلد ہی الیکڑک گاڑیاں متعارف کرائی جائیں گی اور اس ضمن میں10ملین ڈالر سے کام شروع کیا ہے، زراعت کی ترقی کیلئے چین کی کمپنیاں کیڑے مار ادویات کی تیاری کیلئے سرمایہ کاری کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اوپو موبائل کمپنی نے پاکستان میں موبائل کی تیاری شروع کی ہے۔انہوں نے کہاکہ سی پیک کا فیز ون تکمیل کے مراحل میں ہے،گوادر پورٹ فعال ہے۔
معاون خصوصی سی پیک نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو میں سپیشل اکنامک زونز پر توجہ دے رہے ہیں، سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، سی پیک فیزٹو میں ہمارا مقصد سرمایہ کاروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے، بہت جلد ملک میں معاشی ترقی نظر آئے گی ۔معاون خصوصی نے کہاکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے سی پیک کیلئے مکمل تعاون کا اظہار کیا ہے، 8 کمپنیوں کے سی ای اوز نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔5کمپنیوں نے الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے منصوبے شروع کر دئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے حوالے سے من گھڑت خبریں بھی پھیلائی گئی ہیں مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سی پیک منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس میگا پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے وزیراعظم کی قیادت میں ہم سب پر عزم ہیں ۔
خالد منصور نے مزید کہا ہے کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں سے براہ راست رابطہ کرے گا اس کے لئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا جارہاہے ،چھوٹی نجی چینی کمپنیاں الیکٹرانک، ٹیکسٹائل، تعمیراتی سامان اور آٹو سیکٹر میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال سی پیک کی پیش رفت کو متاثر نہیں کرے گی اور اسی وجہ سے ہموار پیشرفت کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔اس موقع پر 8 چینی کمپنیوں کے سی ای اوز بھی موجود تھے۔