دوشنبے،17ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہعالمی برداری کا مجموعی مفاد اسی میں ہے کہ افغانستان میں تنازعہ نہ ہو اور سکیورٹی کی صورتحال مستحکم رہے۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے 20 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے افغانستان کی صورتحال کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اب افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہو گی، افغانستان کا مسئلہ سب کو مل کر حل کرنا ہوگا، یہ افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں 80 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے،ہماری معیشت کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں نقصان پہنچا۔انہوں نے کہاکہ افغانستان کو انسانی بحران، خوراک، بنیادی اشیاودیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حالیہ واقعات کے پیش نظر افغانستان ہماری توجہ کا مرکز ہے، افغانستان کی سابق حکومت کی اچانک تبدیلی جس نے سب کو حیران کر دیا، طالبان کا قبضہ اور غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا افغانستان میں ایک نئی حقیقت قائم کر چکا ہے، یہ سب کچھ خونریزی، خانہ جنگی اور پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کے بغیر ہوا جو اطمینان کا باعث ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ عالمی برادری کے اجتماعی مفاد میں ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان میں کوئی نیا تنازعہ نہ ہو اور سکیورٹی کی صورتحال مستحکم ہو۔ انہوں نے کہا کہ فوری ترجیحات انسانی بحران اور معاشی تنزل کو روکنا ہے، افغانستان کی سابق حکومت غیر ملکی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھی اور اس امداد کو ختم کرنا معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے، یہ افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے ، ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو سراہتے ہیں کہ وہ فوری طور پر انسانی امداد کے لیے بین الاقوامی مدد کو متحرک کرنے میں آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے انخلاءکی بین الاقوامی کوششوں میں مدد کے علاوہ انسانی امداد کی فراہمی اور سہولت میں ہر ممکن تعاون کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کی مثبت تعلق انتہائی اہم ہے، افغانستان میں 40 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کا ایک نادر موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے، اس نازک موڑ پر منفی باتیں پھیلانا یا پروپیگنڈے میں ملوث ہونا غیر دانشمندانہ ہوگا، اس سے امن کے امکانات کمزور ہونگے اور افغان عوام کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو تمام سیاسی گروہوں کے لیے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے ، یہ افغانستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ یہ بات بھی ضروری ہے کہ تمام افغانوں کے حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان مسلسل تنازعات اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور پاکستان نے40 سال سے تقریبا 40 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا ہے اس لئے پرامن اور مستحکم افغانستان ، پاکستان کے مفاد میں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسے باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، ہم مستحکم، خودمختار اور خوشحال افغانستان کی حمایت جاری رکھیں گے۔