دوشنبے،17ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماحول دوست اقدامات کے تناظر میں 2030 تک پاکستان کی 60 فیصد توانائی کاربن سے پاک ہو گی۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے 20 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی ایک اور خطرہ ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، اس کے اثرات کو کم کرنا عالمی ایجنڈے میں سب سے زیادہ ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں پاکستان کی شراکت نہ ہونے کے برابر ہے اس کے باوجود پاکستان 10 انتہائی کمزور ممالک میں شامل ہے لہٰذا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا میری حکومت کی اہم ترجیح ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلین اینڈ گرین پاکستان کے لیے ہمارے اقدامات کا مقصد نہ صرف فطرت کی حفاظت اور ماحولیاتی نظام کو بحال کرنا ہے بلکہ سیاحت کو بڑھانا اور ہمارے نوجوانوں کے لیے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہے، ہم 2030 تک اپنی 60 فیصد توانائی کو صاف رکھنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ پیرس معاہدے کے جامع نفاذ کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔