قومی اسمبلی اجلاس،انتخابات (ترمیمی) بل 2021 منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھجوائے جانے کی تحریک کثرت رائے سے منظور

21

اسلام آباد،29ستمبر  (اے پی پی):انتخابات (ترمیمی) بل 2021ء منظوری کیلئے  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو  بھجوائے جانے کی تحریک قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کرلی جبکہ حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ناگزیر ہے۔

 بدھ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی میں منظور کردہ لیکن 90 دن کے اندر سینٹ سے منظور نہ ہونے والے انتخابات (ترمیمی) بل 2021ء کو منظوری کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کیا جائے۔ اپوزیشن کی طرف سے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ہمیشہ ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔ 70 سال گزرنے کے باوجود ہم یہ مسئلہ حل نہیں کرسکے۔ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں، 22 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کے اس استحقاق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

 انہوں نے کہا کہ سپیکر کے ساتھ اس حوالے سے ایک ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ایوانوں کے نمائندوں پر مشتمل انتخابی اصلاحات کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کی جائے گی۔ اس ایوان کی 2014ء میں کمیٹی قائم کی گئی جس کی وجہ سے 2017ء کی انتخابی اصلاحات اتفاق رائے سے منظور ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات کے لئے یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا تو ہم اس معاملے سے خود کو الگ رکھیں گے۔

 وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ 2017ء کی آئینی اصلاحات میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے اور ای وی ایم کا استعمال نہ کرنے کے حوالے سے تحفظات تھے۔ ہم نے اس وقت بھی کمیٹی سے واک آئوٹ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشین فلپائن اور بھارت میں بھی استعمال ہوئی ہے، یہ خوفزدہ ہوکر بھاگ رہے ہیں۔ پاکستان میں صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا واحد طریقہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے۔  سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ کوئی بلڈوزنگ نہیں کی جارہی، قواعد کے تحت طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ ہماری سپیکر کی موجودگی میں حکومت کے ساتھ جو بات چیت ہوئی ہے ،سپیکر اس حوالے سے اپنا چیمبر استعمال کرکے اعتماد سازی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا اسعد محمود نے کہا کہ سپیکر کی موجودگی میں کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ماضی میں بھی آئینی اصلاحات اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ جے یو آئی بھی یہ چاہتی ہے کہ اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات کا بل لایا جائے۔سپیکر اپنا کردار ادا کریں ۔  سپیکر نے کہا کہ بطور کسٹوڈین آف دی ہائوس میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔ باقی حکومت اور اپوزیشن آپس کے معاملات طے کر سکتے ہیں۔

  وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کا ملک کی معیشت میں اہم کردار ہے۔ 29 ارب ڈالر کی ان کی ترسیلات زر ہیں۔ اگر ان کو ووٹ کا حق نہ دیا گیا تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ سپریم کورٹ کے آرڈرز میں بھی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے۔  وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کے حوالے سے شق الیکشن ایکٹ میں موجود ہے۔ یہ ماڈرن ڈیوائس ہے۔ 1972ء کے بعد یہ ایسی چیز سامنے آئی ہے جس کے ذریعے الیکشن منصفانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملات ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے اختیار نہیں بنتا۔ اس کے بعد سپیکر نے تحریک رائے شماری کے لئے ایوان میں پیش کی جس کے بعد انتخابی اصلاحات بل 2021ء پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کردیا گیا۔