اسلام آباد، 06نومبر(اے پی پی ): انسانوں کا قتل عام، بھیڑ بکریوں کی طرح زندہ انسانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ سو یا دو سو نہیں بلکہ پورے دو لاکھ انسانوں کو ذبح کیا گیا۔ یہ ظلم ہٹلر، چنگیز خان یا زمانہ قدیم کے کسی بادشاہ نے نہیں کیا، بلکہ یہ قتل عام تقسیم برصغیر کے وقت ہندو بلوائیوں کے ذریعے جموں میں کرایا گیا۔ اس قتل عام کے حوالے سے متعدد بیانیے پاکستان اور کشمیر میں زیر بحث ہیں، لیکن تاریخ اس سے بالکل برعکس کہتی ہے۔
اس قتل عام کو برطانوی روزنامہ” ٹائمز لندن” نے رپورٹ کیا۔ اخبار کے مطابق جموں میں 2 لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ اسٹیٹس مین کے ایڈیٹر آئن اسٹیفن نے اپنی کتاب میں قتل عام کی تفصیل لکھی۔ ان کے مطابق 1947 کی خزاں تک 2 لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ صحافی ہوریک الیگزینڈر نے اس قتل عام کی منظرکشی کرتے ہوئے لکھا “جموں کے مسلمانوں نے پاکستان میں شمولیت کےلیے اپنی دولت، رشتے دار، زندگی اور جذبات سب قربان کردیا۔”
برطانوی مورخ ایسٹر لیمپ نے اپنی کتاب میں لکھا “ہندوؤں اور سکھوں کے خونی جتھے جموں میں داخل ہوگئے، جنہوں نے وحشیانہ قتل و غارت گری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کردیا اور لاکھوں لوگوں کو مغربی پنجاب (پاکستان) کی طرف دھکیل دیا۔”
مسلمانوں کے قتل عام کےلیے حکومت اور بلوائیوں نے انتہائی دردناک طریقہ اختیار کیا۔ جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں جموں، اکھنور، راجپورہ، چینی، کھٹوعہ، سانبہ، اودھم پور اور ریاسی میں مسلم آبادی کو ختم کردیا گیا۔ مختلف تاریخی کتابوں کے مطابق جموں کے 123 دیہاتوں میں مسلم آبادی کی اکثریت تھی۔ آر ایس ایس کے قاتلوں سمیت، دیگر ہندو انتہاپسندوں نے ضلع کٹھوعہ میں پچاس فیصد مسلمانوں کو شہید کردیا۔ ریاسی 1947 کا بوسنیا تھا، جہاں 68 فیصد مسلمان آباد تھے۔ اس ضلع کے مسلمانوں کا صفایا کردیا گیا۔ رام نگر میں گجر برادری سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا جبکہ رائے پور گاؤں کو مکمل طور پر راکھ کا ڈھیر بنادیا گیا۔
جموں کے نواحی علاقوں بیر نگر، سلنی، چانڈی وغیرہ میں مسلمانوں کا قتل اکتوبر کے مہینے میں شروع ہوچکا تھا۔ لیکن جموں میں مسلمانوں کا سب سے خطرناک قتلِ عام 4 نومبر 1947 کو بھارتی وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل، وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ اور مہاراجہ پٹیالہ کے دورہ جموں کے بعد ہوا۔
کشمیری قیادت کا کہنا ہے کہ جموں میں قتل عام کی اصل سازش انہی کرداروں نے خود رچی تھی۔ اس سازش کے تحت بھارتی حکومت نے اعلان کیا کہ پاکستان جانے کے خواہش مند مسلمان 5 نومبر کو پولیس لائنز میں پہنچ جائیں۔ چنانچہ ان نہتے اور بھوکے ننگے، ستم رسیدہ مسلمانوں کو 36 ٹرکوں میں سوار کیا گیا۔ اس قافلے کو سیالکوٹ براستہ آر ایس پورہ لے جانے کے بجائے سانبہ لے جایا گیا جہاں پر بندوقوں، تلواروں، بھالوں اور برچھیوں سے لیس تربیت یافتہ دہشت گردوں نے انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔
مسئلہ کشمیر پر گہری نظر رکھنے والے محقق اور دانشور سید سلیم گردیزی کے مطابق “چھ نومبر 1947 کا قتل عام کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس سلسلہ وار قتل عام کا ڈراپ سین ہے جس کا آغاز مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ یہ سلسلہ تین ماہ تک جاری رہا۔ صوبہ جموں میں مسلمانوں کا تناسب 61 فیصد تھا۔ اس قتل عام کے ذریعے مسلم آبادی کی 23 فیصد تعداد کا صفایا کیا گیا، جس سے اس صوبے میں مسلمانوں کی تعداد صرف 38 فیصد رہ گئی۔ ‘
اس نسل کشی کی نہ تو کسی عالمی فورم پر تحقیق کی گئی اور نہ ہی انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے کوئی آواز بلند کی گئی۔ آج بھی کشمیری عوام کی نسل کشی جاری ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار تب بھی خاموش تھے اور آج بھی ان کی زبانیں گنگ ہیں۔