لاہور۔13دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئندہ سال مارچ تک پنجاب میں ہر خاندان کو صحت کارڈ میسر ہوگا جس سے سالانہ 10ارب روپے تک کا علاج کروایا جا سکے گا، پنجاب میں ہیلتھ انشورنس پر 3سالوں میں 440ارب روپے خرچ ہوں گے، یونیورسل ہیلتھ پروگرام سے ملک بھر کے ہسپتالوں کا جال بچھ جائے گا، احساس راشن سکیم سے 50ہزار سے کم آمدنی والے خاندان کو 50فیصد رعایت ملے گی ،47ارب روپے سے 62لاکھ سکالرشپ مستحق طلبا کو دیئے جائیں گے حکومت مشکل وقت میں عوام کے لئے آسانی پید کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ وہ پیرکے روز گورنر ہائوس لاہور میں صحت سہولت پروگرام کے تحت نیا پاکستان صحت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار وفاقی وزیراطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب وفاقی وزرا بریگیڈیئر(ر) اعجاز شا ہ،شفقت محمود،حماد اظہر، وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل، ڈاکٹر فیصل سلطان، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غریب گھرانے میں جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے اور جب کوئی اپنے پیارے کا علاج نہیں کروا سکتا تو اس خاندان پر بے بسی کا کیا عالم ہوتا ہے اس کا ہمیں بخوبی ادراک ہے اور یہ ا س وقت ہوا جب میری والدہ کینسر جیسی بیماری میںمبتلا تھیں اور وسائل کے باوجود علاج نہ ہونے پر بے بس تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے بعد شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کا سوچا اور پھر وہاں غریب لوگوں کو علاج کے بعد دعائیں دیتے دیکھا اور پھر میں نے یہ سوچا کہ اگر اللہ نے موقع دیا تو غریب لوگوں کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے ہیلتھ انشورنس لائی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں نے شوکت خانم ہسپتال بنایا تو اس کے لئے چیف ایگزیکٹو باہر سے منگوایا جنہوں نے بورڈ کی پہلی میٹنگ میں کہا کہ یہ ہسپتال 5فیصد سے زیادہ لوگوں کا مفت علاج نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی ہسپتال 75فیصد کینسر کے مریضوں کا مفت علاج نہیں کر سکتا لیکن شوکت خانم کینسر ہسپتال سالانہ 10ارب روپے سے یہ فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاہور کے بعد پشاور اور اب کراچی میں کینسر ہسپتال بن رہا ہے اسی طرح پاکستان میں اب بھی برکت آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب کرونا کی آفت آئی تو اپوزیشن نے 3مہینے لاک ڈائون نہ لگانے پر برا بھلا کہا کسی نے کرونا کے مریضوں کے جاں بحق ہونے پر مقدمہ درج کروانے کا کہا ،کسی نے نریندر مودی کے لاک ڈائون کے فیصلے کی مثال دی لیکن ہم نے اس لئے لاک ڈائون کا فیصلہ نہیں کیا کہ دیہاڑی دار رکشہ ٹیکسی ڈرائیو کا کیا بنے گا ۔











