لاہور 23 دسمبر (اے پی پی ): پاکستان میں اکثریت اور اقلیت ایک جیسے حقوق کی حامل ہے اسلام نے جو حقوق اقلیتوں کو دئیے ہیں وہ بے مثال ہیں وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا وہ ایک نجی تعلیمی ادارے کی جانب سے منعقدہ انٹر فیتھ ہارمنی کانفرنس میں شریک تھے جہاں انھوں نے مسیحی برادری کے ساتھ کرسمس کی تقریب میں بھی شرکت کی اور کیک کاٹا تقریب کے آغاز پر تلاوت کلام پاک اور حمد و نعت کے ساتھ بائبل مقدس کی آیات بھی پڑھی گئیں علاوہ ازیں سری لنکن شہری مرحوم پریانتھا کمارا کو بھی دعا میں یاد رکھا گیااس موقع پر انھوں نے کہا کہ پاکستان بدقسمتی سے عرصۂ دراز سے حالت جنگ میں رہا جس کے اثرات آج بھی دکھائی دیتے ہیں حالت یہ ہوئی کہ آج ہمیں سری لنکن سفارت خانے جا کر بہ حیثیت مجموعی شرمندگی سے سر جھکا کر معافی مانگنا پڑی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول
کریم نے نجران کے مسیحیوں کے ساتھ جو حسن سلوک روا رکھا وہی قابل تقلید اور قابل عمل رہتا تو ہم شدت پسندی اور نفرت کی آگ کا ایندھن نہ بنتے آج ہمیں ملک کو پھر سے جنت ارضی بنانے کے لئے اسوۂ رسول پر عمل پیرا ہونا پڑے گا انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا کہ یہاں کسی کو کوئی حق نہ دیا جائے تاریخ جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والوں میں سب سے بڑی اقلیت یعنی مسیحیوں کا اہم ترین کردار ہے ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنی اقلیتوں کا احترام کریں اور ان کے ساتھ مل کر اس ملک کو جائے امن بنائیں یاد رہے کہ پاکستان کا پرچم اقلیتوں کی نمائندگی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سری لنکن شہری کا قتل ہونا ایک بہت بڑی بدقسمتی ہے کیونکہ ایسے کسی سانحہ کی اجازت دین ہرگز نہیں دیتا بدترین ہیں وہ قاتل جنھوں نے ایسے شرمناک جرم کا ارتکاب کیا اور پاکستان کا سر شرم سے جھکا دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پریانتھا کمارا کی وجہ سے پاکستان کو بڑے بڑے بین الاقوامی برانڈز کا بزنس ملتا رہا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی پریانتھا کمارا کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے ۔
فاروق











