عدلیہ ، مقننہ اور پارلیمنٹ کو قانون و انصاف پر اٹھنے والے سوالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا؛ڈاکٹر بابر اعوان

32

 

اسلام آباد،24دسمبر  (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ فوجداری قوانین میں نقائص کی وجہ سے اہم اور حساس مقدمات میں انصاف میں تاخیر ہو رہی ہے، عدلیہ ، مقننہ اور پارلیمنٹ کو قانون و انصاف پر اٹھنے والے سوالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں سانحہ سیالکوٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ سانحہ سیالکوٹ کی وجہ سے پاکستان کے تشخص پر سوالات اٹھے ہیں۔ ہم اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیش آخری مرحلے میں ہے اور اس کا چالان انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا، علماء ، سول سوسائٹی اور سیاسی عمائدین نے اس سانحہ پر تفصیلی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو چاہیے کہ فوجداری قوانین کے نقائص دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ اے پی ایس پشاور کے سانحہ کے حوالے سے بھی ابھی کچھ مقدمات عدالتوں میں پڑے ہیں، اس کے علاوہ نور مقدم اور زینب جیسے واقعات پر بھی انصاف میں تاخیر ہو رہی ہے، اس کی وجہ فوجداری قوانین میں نقائص ہیں اور اس کی وجہ سے پولیس کا مورال بھی اثرانداز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون اور انصاف پر اٹھنے والے سوالات کے حوالے سے عدلیہ، مقننہ اور پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

قبل ازیں  وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ایوان میں تحریک پیش کی کہ رول 259 کے تحت وقفہ سوالات اور توجہ دلائو نوٹس سیالکوٹ واقعہ پر بحث سمیٹے جانے تک موخر کیے جائیں۔ ڈپٹی سپیکر نے تحریک ایوان میں پیش کی جسے منظور کرلیا گیا۔

بعدازاں قومی اسمبلی اجلاس میں ڈاکٹر درشن نے  کورم کی نشاندہی کردی اور ساتھ ہی اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔ ڈپٹی سپیکر نے گنتی کا حکم دیا۔ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کی بنا  پر ڈپٹی سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

سورس: وی این ایس ،اسلام آباد