برسلز،26جنوری (اے پی پی):بیلجیئم لکسمبرگ اور یورپی یونین میں پاکستان کے سفیر ظہیر اے جنجوعہ نے بین الاقوامی آرٹس پروجیکٹ کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ پاکستان کے تاریخی ثقافتی مقام بھیر مونڈ کو بین الاقوامی آرٹس پروجیکٹ میں شامل کیا جائے گا۔انہوں نے وفد کو بھیر مونڈ کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو کہ 800-525 قبل مسیح کے دور کے ٹیکسلا کے قدیم ترین آثار میں سے ایک ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔
پاکستانی سفیر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ثقافت اور متنوع روایات کی سرزمین ہے، شمال میں گندھارا تہذیب سے لے کر جنوب میں موہنجو داڑو تک، پاکستان کو ثقافتی لحاظ سے متنوع تہذیبیں وراثت میں ملی ہیں۔ انہوں نے ملک کی سیاحتی صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان بدھ مت، سکھ اور ہندو مت کے مقدس مقامات کا مرکز ہے۔ انہوں نے نومبر 2019 میں کرتار پور کوریڈور کے افتتاح سمیت مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔
سفیر پاکستان نے وفد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ سفیر پاکستان نے وفد کو بھیر مونڈ سے زمین کا ایک نمونہ بھی پیش کیا جسے بین الاقوامی آرٹ پروجیکٹ میں شامل کیا جائے گا جس میں دنیا بھر سے 173 ممالک شرکت کریں گے۔
وفد میں شامل سینڈی فلنٹو اور پراجیکٹ انچارج گرگانا سٹیفانووا نے بھیر مونڈ سے زمین کے نمونے لینے اور پراجیکٹ میں شرکت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دورے کی دعوت پر سفیر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
آرٹسٹک پروجیکٹ Terre d’Origine بصری فنون کے شعبے میں ایک آرٹ پروجیکٹ ہے، جس کی نمائش ستمبر 2022 میں اسچہ سغ الظت، لکسمبرگ میں کلچر نائٹ کے دوران کی جائے گی۔











