سکروٹنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اکبر ایس بابر کے دعوؤں کاپول کھول دیا ہے، مریم اوربلاول اپنے پارٹی اکاؤنٹس کا جواب دیں ، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات

38

اسلام آباد،01فروری  (اے پی پی):وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہاہے کہ سکروٹنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اکبر ایس بابر کے دعوؤں کاپول کھول دیا ہے، ہمیں اسرائیل اور بھارت سے فنڈ لینے کے طعنے دینے والے مریم اوربلاول اپنی پارٹی اکاؤنٹس کا جواب دیں ، اکبر ایس بابر کی درخواست اور ساتھ لگے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے،کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔

وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے فنڈنگ کیس کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ کے حوالے سے کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے،آج سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ جمع ہوئی ہے، پیراوائز جواب الیکشن کمیشن کے سامنے رکھ رہے ہیں،اسی رپورٹ میں اکبر ایس بابر جو چار سال آئینی فورم کے سامنے آکر یہ کہتے رہے کہ فارن فنڈنگ لی ہے،میرے پاس ثبوت موجود ہیں،یہ درخواست خارج ہونی چاہیے، الیکشن کمیشن میں ایک اور درخواست دائر کردی ہے، اس درخواست میں استدعا کی ہے کہ اکبر ایس بابر کو اس کیس سے الگ کیا جائے، سکروٹنی کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کی ہے الیکشن کمیشن اس کیس کو سنتا رہے۔

 وزیر مملکت نے کہاکہ اکبر ایس بابر سکروٹنی کمیٹی کو مطمئن نہیں کرسکے،انھیں الگ کیا جائے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ فارن فنڈنگ کیس چل رہے ہیں،ن لیگ اور پیپلز پارٹی خفیہ اکاؤنٹس کی تفصیلات نہیں دے سکی، کروڑوں روپے کے کوئی ثبوت نہیں ہے،پاپڑ والے،فالودے والے اور مردہ لوگوں کے اکاؤنٹس میں پیسے نکل رہے ہیں،سکروٹنی کمیٹی کے ممبر ریٹائرڈ ہونے سے کمیٹی غیر فعال ہوچکی ہے۔

وزیر مملکت فرخ حبیب نے مزید کہاکہ ہمیں اسرائیل اور بھارت سے فنڈ لینے کے طعنے دینے والے مریم اوربلاول اپنی پارٹی اکاؤنٹس کا جواب دیں،پی ٹی آئی نے اپنے تمام ثبوت پیش کیے، باقی بھی آگے بڑھیں،کبھی عدالتوں پر حملے،کبھی جسٹس قیوم جیسے لوگوں سے مرضی کے فیصلے سناتے ہیں،ثناء اللہ کی ججز کو حالیہ دھمکی سب کے سامنے ہے، یہ عدلیہ پر حملہ ہے، اعلیٰ قیادت کا نوٹس نہ لینے کا مطلب ہے یہ ان کی پارٹی پالیسی ہے، ان بڑھکوں سے کچھ نہیں ہونے والا،مسرور انور کون ہے بتایا جائے۔

فرخ حبیب نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ رانا ثناء اللہ کی عدلیہ دھمکیوں پر ن لیگ معافی مانگے، پہلی مرتبہ طاقتور کا احتساب ہورہا ہے،ہم احتساب کے عمل کے ساتھ کھڑے ہیں۔