سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی کوہاٹ اور خیبر پختونخواہ کے دور دراز علاقوں کو گیس کی فراہمی یقینی بنا نے کی ہدایت ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا

16

اسلام آباد۔10فروری  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم  نے ہدایت کی ہے کہ کوہاٹ اور خیبر پختونخواہ کے دور دراز علاقوں کو گیس کی فراہمی یقینی بنائے جائے ، توانائی کے مسائل کے حل کے لیے ٹھوس قومی پالیسی کی ضرورت ہے ۔کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا،  جس کی صدارت سینیٹر عبدالقادر نے کی۔  اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر فدا محمد، سینیٹر شہزادہ احمد عمر احمد زئی، سینیٹر افنان اللہ خان، سینیٹر شمیم ​​آفریدی، سینیٹر بہرہ مند خان تنگی، سینیٹر سید محمد صابر شاہ، سینیٹر محمد قاسم اور پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس  میں  پٹرولیم ڈویژن اور ایس این جی پی ایل کی جانب سےضلع کوہاٹ میں گیس کی عدم دستیابی پر تفصیلی بریفنگ  دی گئی ۔  کمیٹی نے اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور اس بات پر زور دیا کہ کوہاٹ اور خیبر پختونخوا کے دیگر دور دراز علاقوں کے مکینوں کو گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششوں کی ضرورت ہے۔  اراکین نے  کہا کہ یہ انتہائی ناانصافی ہے کہ ایک ایسے علاقے کی مقامی کمیونٹی جو باقی پاکستان کو گیس فراہم کرتی ہے اس سے محروم ہے۔  کمیٹی کو یقین دلایا گیا کہ ایس این جی پی ایل مقامی آبادی کو گیس کی دستیابی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی ۔   اجلاس میں  انکشاف ہوا کہ اس علاقے میں گیس پریشر کو درست کرنے کے لیے 441 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔  ملک میں توانائی کے مسائل کے حل کے لیے ٹھوس قومی پالیسی کی ضرورت ہے ۔   سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کی طرف سے کوہاٹ، کرک اور ہنگو کے اضلاع میں ایم او ایل کے ٹل  بلاک میں ملازمتوں کی عدم فراہمی کے حوالے سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے نکتہ پر غور کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان علاقوں سے  ملازمین کی تعداد  599 ہے۔   اس معاملے کی مزید تفصیل سے تحقیقات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے   ممبران کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ بلوچستان کے مختلف شہروں کے لیے گیس کی سکیموں  کے حوالے سے  کمیٹی نے 16  اضلاع کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جہاں پر گیس کی سہولت میسر نہیں ۔  اس بات پر زور دیا گیا کہ ان علاقوں کو گیس کی فراہمی  یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔  ایسے تمام علاقوں میں ایل پی جی پلانٹس لگانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور  ہدایت کی گئی کہ ایک  کمرشل ماڈل بنا کر جلد از جلد کمیٹی کو پیش کیا جانا چاہیے۔  چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ان علاقوں میں موجودہ 1.5 فیصد ایل پی جی کی رسائی کو 5 فیصد تک لے جانا ضروری ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔  اجلاس میں یہ سفارش کی گئی کہ سرحد پار سے اسمگلنگ اور دراندازی کے معاملات پر مزید تفصیلات کے لیے ایف آئی اے کے ساتھ ان کیمرہ میٹنگ کی جائے۔ غازی، ہری پور کے مختلف علاقوں میں گیس کی قلت کے حوالے سےکمیٹی کو بتایا گیا کہ معاملہ حل ہو گیا ہے اور آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو رپورٹ پیش کر دی جائے گی ۔ گوادر پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کے قیام  سے متعلق  کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایل این جی ورچوئل پائپ لائن پر کام جاری ہے۔  تاہم، چیلنجز  ہیں۔  کمیٹی نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس میں شامل پرائیویٹ کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ این او سی جلد از جلد جاری کیے جائیں تاکہ کاروباری کوششیں متاثر نہ ہوں۔  اس  مقصد کے لئے  ٹاسک فورس بنانے کی سفارش کی گئی۔