گلگت، 24 فروری (اے پی پی ): وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ ہم بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو گلگت بلتستان میں خوش آمدید کہتے ہیں،یہ خطہ معدنیات کی دولت سے لبریز ہے،خطے میں سیاحتی پوٹینشل کو اجاگر کرنے کے لیے صوبائی حکومت مختلف کثیر الجہتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے دبئی میں پہلی بین الاقوامی گلگت بلتستان سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے ون ونڈو کی سہولت فراہم کر رہی ہے جس سے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو آسانی مہیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 2021-25 GoGB کے ترقیاتی ایجنڈے کے حصے کے طور پر پرائیویٹ سیکٹر بہتری اور نجی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لئے خصوصی طور پر توجہ دی جا رہی ہے، حکومت خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے جدت اور نجی فنانسنگ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ خطے کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ حکومت پاکستان خطے تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیئے چاروں اطراف سے نئی شاہراہیں تعمیر کر کے ملک کے باقی حصوں سے جوڑا جا رہا ہے، جس سے سیاحوں کو خطے تک آسان رسائی حاصل ہو رہی ہے اور وہ اپنی پسند کے مطابق جی بی منفرد اور خوبصورت مقامات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سیاحوں کی آمد ورفت میں آسانی کی خاطر حال ہی میں سکردو ائیر پورٹ کو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا درجہ دے کر فعال بنایا گیا ہے جبکہ گلگت ایئر پورٹ پر بین الاقوامی پروازوں کو ممکن بنانے کے لیے کنسلٹنسی کا کام جاری ہے۔
سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ خطے میں سیاحتی پوٹینشل کو اجاگر کرنے کے لیے صوبائی حکومت مختلف کثیر الجہتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے،اس سلسلے میں نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی،روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری اور دیگر سہولیات بہم پہنچانے کے لیے صوبائی حکومت اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا سیاحتی پوٹینشل دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے حکومت پاکستان یکسوئی سے کام کر رہی ہے،آنے والے سالوں میں سیاحوں کو خطے کی جانب راغب کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا تعاون ناگزیر ہے۔
وزیر اعلی گلگت بلتستان نے کہا کہ اس خطے میں موسم سرما کی سیاحت دن بہ دن شہرت اور مقبولیت حاصل کر رہی ہے جبکہ دیگر سرمائی کھیلوں سمیت سکینگ اور ایڈونچرپر مبنی کھیلوں، ٹریک اینڈ ٹریل ڈویلپمنٹ، واٹر بوٹنگ، جیٹ سکی اینگ، پیرا سیلنگ، سرفنگ اور پیرا گلائیڈنگ، ڈیزرٹ سفاری، سنو بورڈنگ، سکی ٹراورسنگ، ماونٹین سائکلنگ،کیبل کار، ماحول دوست رہائش کی سہولت، ٹور آپریٹنگ سروسز، ائیر سفار ی، شٹل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک منفرد مقام پر واقع ہے جس کا رقبہ 72,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے اور اس کی سرحدیں چین، ہندوستانی مقبوضہ کشمیر، افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں اور تاجکستان سے صرف ہاتھ ہلانے کے فاصلے پر ہے۔ ہمارے خصوصی پس منظر اورمحل وقوع کی اہمیت کی وجہ سے یہ خطہ سیاحت، مہمان نوازی اور تفریحی صنعت میں ہمسایہ ممالک میں رہنے والے ڈھائی بلین سے زیادہ کی مجموعی آبادی کے لیے ایک اہم خطہ ہے، جو کہ عالمی آبادی کا تقریباً بتیس فیصد ہے۔ اپنی غیر معمولی خوبصورتی کی وجہ سے گلگت بلتستان نے گزشتہ چند سالوں میں سیاحت میں کئی گنا اضافہ دیکھا ہے، علاقے میں بڑھتی ہوئی سیاحت کی انڈسٹری کی بدولت سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری کے وافر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے دبئی میں جاری سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کو قدرت نے بیش بہا وسائل سے نوازا ہے ان قدرتی وسائل میں سر فہرست یہاں کے گلیشئیرز ہیں جو کہ دونوں قطبین کے بعد دنیا میں پانی کا سب سے بڑا زخیرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان دریاؤں اور ندی نالوں کی صورت میں پانی کے فراہمی کا بہت بڑا وسیلہ ہے،یہ خطہ ملک کے دیگر علاقوں کو 75 فیصد آبی وسائل فراہم کرتا ہے۔پانی کے یہ بڑے ذخائر نہ صرف آبپاشی بلکہ پن بجلی کی صورت میں توانائی کے بڑے منصوبوں کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ گلگت بلتستان خطے میں انرجی کوریڈور بننے کا خواہاں ہے جس کے لئے ہم عالمی سرمایہ کاروں کے لئے اپنے دروازے کھول رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں کلین انرجی بنانے یعنی پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کریں،اس سلسلے میں حکومت گلگت بلتستان سرمایہ کاروں کو مناسب سہولیات اور رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اب تک کی فزیبلٹی کے اعداد و شمار کے مطابق پچاس ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے سرمایہ کاروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ خطے کے پن بجلی کے پوٹینشل سے استفادہ کرکے نہ صرف مقامی ضروریات پوری کرسکتے ہیں بلکہ اس بجلی کو ایکسپورٹ کرکے کثیر زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں سیاحت،جنگلات،معدنیات،فوڈ و فروٹ پراسیسینگ خصوصاً آرگینک فروٹس کی انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے لئے دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت خاطرخواہ سہولیات فراہم کرے گی، غیر موسمی پھلوں اور غذائی اجناس کی فراہمی کے لئے کولڈ سٹوریجز کی تیاری میں انویسٹمنٹ کے بھی وسیع مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ ایک عالمی چیلنج کی صورت میں دنیا کو درپیش ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان اور خصوصا وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، وزیراعظم پاکستان کے ویژن کی روشنی میں شجر کاری مہم جس کا عنوان بلین ٹری سونامی ہے،دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کراچکی ہے، دنیا نے پاکستان کی جانب سے گلوبل وارمنگ کے سدباب کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے، اسی طرز پر گلگت بلتستان حکومت نے بھی خطے میں شجر کاری اور جنگلات کے پھیلاؤ کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں،گلگت بلتستان ایک پہاڑی خطہ ہونے کے سبب موسمیاتی تغیرات سے نبرد آزما ہے،ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت قدرتی وسائل خصوصاً جنگلات کے کٹاؤ کو کم کرنے اور نئے جنگلات اگانے کے لئے جامع اقدامات کر رہی ہے،گلیشیئرز کا منبع ہونے کے باعث گلگت بلتستان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ موسمی تبدیلیوں کا ادراک کرتے ہوئے ان قدرتی وسائل کے بچاؤ کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے ہم کثیرالجہتی اقدامات کر رہے ہیں جن میں سرفہرست ٹرافی ہنٹنگ پروگرام اور فالکن بریڈنگ سسٹم شامل ہے، ٹرافی ہنٹنگ کے کامیاب پروگرام کے طفیل گزشتہ سالوں میں کثیر تعداد میں غیر ملکی و ملکی سیاحوں اور شکاریوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا۔ٹرافی ہنٹنگ کی مد میں حکومت اور مقامی کمیونٹیز کو لائسنس کی مد میں خاطرخواہ آمدن حاصل ہو رہی ہے، فارسٹ ڈپارٹمنٹ ٹرافی ہنٹنگ کے ساتھ ساتھ فالکن بریڈنگ سسٹم کو بھی خطے میں متعارف کرانے کے لیے کاوشیں کر رہا ہے،اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات سے تکنیکی مدد لی جائے گی۔
وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اس موقع پر صوبے کے معدنی وسائل کے حوالے سے بات کر تے ہوئے کہا کہ جی بی کو قدرت نے قیمتی، نیم قیمتی اور دیگر معدنیات سے نوازا ہے، اس لیے یہ علاقہ جواہرات، معدنیات کی پالش، کٹنگ اور زیورات بنانے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے بھی موزوں ہے۔ اس سلسلے میں سرمایہ کاری کے لئے دلچسپی رکھنے والے حضرات بین الاقوامی منڈیوں کے لئے قیمتی پتھروں اور جواہرات تیار کرکے سپلائی کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں گرینائٹ اور ماربل کے عالمی معیار ذخائر موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعلی گلگت بلتستان نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان میں اعلی تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک قائم کئے ہیں، آئی ٹی کے شعبے کی بڑھوتری کی خاطر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ آن لائین صنعت اور انڈسٹری کے فروغ کے لئے بھی سرمایہ کاری کے بیش بہا مواقع موجود ہیں جس کی براہ راست نگرانی چیف منسٹر آفس کرے گا، تاکہ کسی بھی طرح رکاوٹ کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کانفرنس سے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم سالانہ بنیادوں پر اس طرز کی کانفرنسز کا انعقاد کرتے رہیں گے تاکہ شراکت داروں کو خطے میں انویسٹمنٹ پوٹینشل کے بارے میں متواتر آگاہی ملتی رہے۔
آخر میں وزیر اعلی گلگت بلتستان نے کانفرنس میں شریک بین الاقوامی سرمایہ کاروں، کانفرنس پارٹنرز اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں اور مربوط سرگرمیوں سے پاکستان اور خصوصا گلگت بلتستان کی معاشی تقدیر کو بدلنے میں مدد ملے گی۔











