کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی  کا امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے عالمی تناظر میں اہم کردار ہے، حافظ طاہر محمود اشرفی

47

اسلام آباد،28فروری  (اے پی پی):وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی اور پاکستان علمائے کونسل (پی یو سی) کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی کو امن کا سفیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے عالمی تناظر میں ان کا اہم کردار ہے۔ وہ اتوار کو یہاں مقامی ہوٹل میں آرچ بشپ جسٹن ویلبی کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے۔طاہر اشرفی نے کہا کہ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا جلسہ ہے لیکن درحقیقت یہ ایک بہت بڑا جلسہ ہے کیونکہ ایک بلند پایہ شخصیت ہمارے درمیان ہے جو امن کے سفیر ہیں، میرے نزدیک وہ ایک استاد ہیں اور امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کیلئے عالمی تناظر میں ان کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کا پاکستان میں ہونا ایک نعمت ہے، یہ آپ کا اپنا ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ آرچ بشپ جسٹن نے ہمیشہ دنیا بھر میں امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرنے والے لوگوں کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ جب بین الاقوامی بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے پر بات کرنا کافی مشکل تھا، پاکستان علمائے کونسل نے ان کیلئے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے رمشا مسیح کیس ہو یا لاہور جوزف کالونی کا معاملہ یا چرچ پر خودکش حملہ دو ٹوک بات کی کیونکہ لوگوں میں بے جا خوف تھا، لیکن آج صورتحال قدرے مختلف ہے۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ انہوں نے ناقابل قبول رویوں کے 137 مقدمات کو حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبری شادیوں اور مذہب تبدیل کرنے کی کچھ شکایات تھیں لیکن انہوں نے انہیں بھی اپنے عملی انداز سے حل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ملک میں توہین رسالت ؐکے قانون کے غلط استعمال کا ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے ہر معاملے کی ذاتی طور پر تفتیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ 113 مقدمات میں لوگوں کو رہا کرنے اور وارننگ نوٹ کے ساتھ مقدمات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب حالات وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہو رہے ہیں۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ اس طرح کے تمام ہنگاموں کے پیچھے اصل مسئلہ آگہی کی کمی ہے کیونکہ لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اصل تناظر میں توہین رسالتؐ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جبری شادیاں یا مذہب تبدیل کرنا غیر اسلامی عمل ہے، زمین پر تمام مذاہب پرامن بقائے باہمی کا سبق دیتے ہیں اور اسی طرح اسلام بھی۔