اسلام آباد،08مارچ (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے برادارنہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں، پاکستان ازبکستان کے ساتھ قریبی برادارانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ازبکستان کے سفیر ایبک عارف عثمانیوف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے منگل کو پارلیمنٹ ہا ؤس میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے برادارنہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ قریبی برادارانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ازبکستان وسطی ایشیائی ممالک کا اہم ملک ہے اور پاکستان اور ازبکستان کے مابین معیشت، دفاع، ثقافت، تعلیم، تجارت اور سیاحت کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی تعاون کے فروغ سے دونوں ممالک کے سرمایہ کار وں کو قریب آنے کا موقع ملے گا، باہمی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ کے لئے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی تعلقات کا فروغ نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے مابین ریلوے منصوبہ معاشی خوشحالی کا ضامن ثابت ہو گا، اس منصوبے سے سینٹرل ایشیا کے ٹرانسپورٹ نظام کو پاکستان کی بندرگاہوں، گوادر، کراچی اور قاسم پورٹ سے منسلک ہونے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو کورونا وبا کا سامنا ہے اور مؤثر حکمت عملی اور حفاظتی اقدامات سے اس موذی وبا پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔
ملاقات میں خطے اور مجموعی امن امان اور تحفظ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے مؤقف کی دنیا کے ہر اہم فورم پر بھر پور حمایت کی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے فسلطین پر اسرائیلی ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی شدید ترین پامالی کی مذمت کی۔
محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک کا تعاون قریبی تعلقات کا عکاس ہے، کشمیر تنازعہ پر ازبکستان کے بھر پور تعاون پر شکر گزار ہیں، فلسطین اور کشمیر کے مسائل مسلم ممالک کی بجائے انسانیت کے مسائل بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو فلسطین اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور ظلم و بربریت پر مشترکہ طور پر آواز اٹھانی چاہیے، تمام ممالک کے پارلیمان مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں تو ان تنازعات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ان تنازعات کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بے شمار ممالک کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا، گوادر، مشرق وسطیٰ، وسط ایشیائی، یورپ اور افریقی ممالک کو ملانے کا مختصر ترین راستہ ہے جس سے سرمایہ کاری و تجارت کو فروغ میسر ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹرین کو ادارہ برائے پارلیمانی خدمات پارلیمانی سروسز فراہم کر رہا ہے، ازبکستان کے پارلیمنٹرین بھی اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
ازبک سفیر نے کہا کہ ازبکستان کی پارلیمنٹ، عوام اور حکومت پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہاں ہیں، دونوں ممالک کے مابین تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ کی اشد ضرورت ہے، دونوں ممالک کے مابین عوامی و پارلیمانی روابط کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے دونوں ممالک کی عوام کیلئے خوشحالی لائی جائے گی۔











