اسلام آباد،11مارچ (اے پی پی):وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ عدم اعتماد جمہوریت کا حصہ ہے لیکن اب اپوزیشن والے عدم اعتماد سے راہ فرار کر رہے ہیں، عدم اعتماد سے قبل وہ اسلام آباد میں کوئی ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں، زرداری اور نواز شریف مولانا فضل الرحمٰن کو استعمال کر رہے ہیں، ووٹنگ کے دن پارلیمنٹ ہاؤس اور لاجز کو رینجر اور ایف سی کے حوالے کر رہے ہیں، ملیشیا کے لباس میں آنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
ی این ایس، اسلام آباد
جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ روز جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں،انصار الاسلام آئین کے آرٹیکل 256کے تحت تحلیل کی گئی ہے، پارلیمنٹ لاجز میں 362فیملیز رہائش پذیر ہیں، 50 افراد کو لاجز میں داخل کیا گیا، ہم نے 5 گھنٹے مذاکرات کیے، کامران مرتضیٰ نے پولیس سے متعلق انتہائی نازیبا زبان استعمال کی، پولیس پر تشدد کیا گیا اور 6 افراد زخمی ہوئے، پولیس والے ان کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا کر منتیں کرتے رہے،ہم نے کسی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا، ہلکے پرچے دیے، قانون کو ہاتھ میں لیا تو اگلی بار دہشتگردی کے پرچے ہوں گے۔
وزیرداخلہ نے کہاکہ کہ اسلام آباد بہارہ کہو میں پولیس کی کارروائی میں دہشت گرد گروپ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن اطلاعات کچھ اچھی نہیں ہیں، اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اور شیخ رشید کو زیادہ خطرہ ہے۔ آپ کے کسی ایم این اے کو سکیورٹی چاہیے ہمیں بتائے، لیکن قانون ہاتھ میں نہ لے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواحکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی بندہ یونیفارم میں اسلام آباد نہ آئے، جوملیشاء کے لباس میں اسلام آباد آیا اس کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کون کتنا بڑا لیڈر ہے یا کسی جماعت کا سربراہ ہے۔ مولانا سے درخواست سے مدارس کے طلبہ کو استعمال نہ کریں، انہوں نے احتجاج کی کال واپس لے کر اچھا کیا، نوازشریف اور آصف زرداری مولانا فضل الرحمان کو استعمال کررہے ہیں۔
وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ بلاول نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی ۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اب اپوزیشن والے عدم اعتماد سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں، اور عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں کوئی ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں، اگر اسلام آباد میں کوئی واقعہ ہوا تو آپ لوگ خسارے میں رہیں گے،جس نے قانون کو ہاتھ میں لیا ان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، یہ لوگ 172 ارکان نہیں لاسکتے، مولانا فضل الرحمان نمبروں کی بات کرتے ہیں ہیں، شکر ہے اب آپ کہ رہے ہیں فوج نیوٹرل ہے۔ بعد میں آپ کے 6 ایم این اے کم ہو جانے ہیں پھر ہمیں نہ کہنا،ووٹنگ کے دن پارلیمنٹ ہاوٴس، پارلیمنٹ لاجز اور پرانا ایم این اے ہاوٴس رینجرز اور ایف سی کے حوالے ہوگا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں کوئی ایسا واقعہ ہو جو بدنامی کا باعث بنے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان چاہتے ہیں اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے پہلے مین گیٹ پر قبضہ کیا پھر اپنے بندوں کو اندر کر دیا، ہم نےکمرہ نمبر401کے علاوہ کوئی دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ 401نمبر کمرے سے 20 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کا برا وقت آنے والا ہے، یہ لوگ وزیر اعظم عمران خان سے ذاتی لڑائی لڑ رہے ہیں، اگر یہ 172 ارکان پورے نہیں کرسکتے تو پرانی تنخواہ پر کام کریں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے یوکرین اور روس کی جنگ میں وزیر اعظم عمران خان عیر جانبدار رہے۔ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں ۔ جس دن تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی اپوزیشن کو پی ٹی آئی سے زیادہ سکیورٹی فراہم کریں گے اور اسی دن ہم جیت کر شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس بڑی مظلوم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سمیت تمام علما کا نام احترام سے لیتا ہوں۔
سورس:وی این ایس، اسلام آباد











