وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کو جہاں کئی سال لگتے تھے اب 15 ایام  میں مہیا ہوجاتا ہے ؛وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم

28

اسلام آباد،17مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں نظر ثانی کی ضرورت ہے،اس میں بہت ساری خامیاں ہیں، وراثتی سرٹیفکیٹ کے حصول کو جہاں کئی سال لگتے تھے اب 15 ایام  میں مہیا ہوجاتا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارلیمانی انسانی حقوق کمیشن کے تعاون سے نیشنل پولیس بیورو کی طرف سے منعقدہ نیشنل پولیس کانفرنس 2022ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کے پہلے سیشن میں سولہویں نیشنل پولیس مینجمنٹ بورڈ کا اجلاس ہوا، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے  سیشن کی صدارت کی اور پاکستان پولیس کی کوششوں کو سراہا جبکہ دوسرے سیشن میں ڈائریکٹر این پی بی ثاقب سلطان نے  پولیس ریفارمز کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے ڈرافٹ ایکشن پلان پیش کیا ۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم  نے دوسرے سیشن کی صدارت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس سٹیشن تک بجٹ نہیں پہنچتا، اب ایسا نہیں ہو گا، دور دراز کے پولیس سٹیشنوں کو بھی بجٹ پہنچانے کیلئے اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات پر بحث کی جا رہی ہے، یہ ایک اچھی بات ہے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ 18ویں ترمیم میں اگرچہ بہت ساری اچھی چیزیں ہیں مگر صوبوں کو فیڈریشن کی بجائے کنفیڈریشن میں ڈال دیا گیا جو ملک کے بنیادی سٹرکچر کے خلاف ہے۔

 ڈاکٹر فروغ نسیم  نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں بہت ساری تکنیکی خامیاں ہیں جس کے باعث اس پر نظرثانی ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں کے خالقوں نے اس وقت سوچا کہ اپوزیشن کے ساتھ تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہیں گے مگر یہ تصور غلط ثابت ہو چکا ہے، اگر بعض آئینی معاملات پر دو فریقین میں اختلافات سامنے آتے ہیں اور اس صورت میں اگر کوئی عدالت جاتا ہے تو اس حوالہ سے عدالت بھی کیا کرے گی، اس کی وضاحت ضروری ہے، صوبوں کے بارے میں 18ویں ترمیم کے حوالہ سے سوچ غیر جمہوری تھی، پاکستان کی بقاء کیلئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس پر نظرثانی کی جائے، پاکستان ایک ہمیشہ کی فیڈریشن ہے، ہمارے آبائو اجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد اس ملک کو بنایا۔

 وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ملک میں پولیس ریفارمز کے اوپر بات کرنا اچھا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو صحیح سمت میں لانے کیلئے اس کی ٹیچنگ اور ٹریننگ ٹھیک عمل ہے، کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہیں، یہ وکیلوں میں بھی ہیں اور پولیس میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عدالتیں اور ہمارے ادارے اعلیٰ ہیں، ان کی عزت و وقار بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات کے حوالہ سے اسمبلی میں جو بل پیش کر دیا گیا ہے اس میں 700 سے 750 تک اصلاحات ہیں، اس ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹ وکلاء کی طرف سے ہے کیونکہ انہوں نے اس حوالہ سے عدالتوں میں پیش ہونا ہے، میں وکلاء برادری سے کہوں گا کہ وہ رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

 انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات میں  سب سے زیادہ زور فرانزک اصلاحات پر دیا جا رہا ہے، تاریخ میں پہلی بار اسلام آباد میں جدید فرانزک لیبارٹری بننے جا رہی ہے، ریکارڈنگ اور ثبوت کیلئے ویڈیو، آڈیو کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات میں اس بات کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے کہ بجٹ ہر تھانے تک پہنچے، ہم نے بہت ساری چیزیں مینڈیٹوریل بنانے کیلئے کام کیا ہے، 9 ماہ میں مقدمات کا فیصلہ کرنے کیلئے ٹائم لائن دی جا رہی ہے، لوئر کورٹس کے حالات ہمارے سامنے ہیں، ضلعی عدالتیں فیصلوں میں تاخیر سے متعلق ہائی کورٹ کو وجوہات بتانے کی پابند ہوں گی، اگر ہائی کورٹ اپنے ماتحت عدالت کے جج کا احتساب نہیں کر سکے گی تو پھر جیسا عمل چل رہا ہے ایسا ہی چلے گا۔

 بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ہم نے پولیس اصلاحات میں کہا کہ ایس ایچ او بی اے پاس ہونا چاہئے تو سوال اٹھایا گیا کہ اتنے ایس ایچ او ہی نہیں ہیں تو بی اے پاس کہاں سے آئے گا، ہم نے انہیں بتایا کہ اگر یہ فوری طور پر نہیں ہو گا تو آگے چل کر اس پر عملدرآمد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 22 اے کو ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ اصلاحات میں رکھا گیا ہے کہ جھوٹی ایف آئی آر سے بچنے کیلئے اس حوالہ سے ایس پی کے پاس شکایت لے کر جانا ہو گا، اس کے بغیر 22 اے نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس حوالہ سے ایک ماڈل طریقہ کار متعارف ہوا ہے جس سے عوام کو ریلیف ملا، جھوٹی شکایت پر جزا و سزا کا طریقہ کار متعارف کرایا جا رہا ہے، پولیس اصلاحات کے اندر ایس ایچ او کو ضمانت لے کر تحقیقات آگے بڑھانے کا اختیار دیا جا رہا ہے یہ طریقہ پہلے بھی موجود تھا لیکن اس پر عملدرآمد کرایا جا رہا ہے تاکہ عدالتوں پر اس حوالہ سے بوجھ کم پڑے۔

 پارلیمانی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا کہ پولیس ریفارمز پر بات ہو رہی ہے مگر میں یہ کہوں گا کہ انگریز نے اپنے ملک میں میٹرو پولیٹن سسٹم رائج کیا لیکن ہندوستان میں کانسٹیبلری سسٹم کے تحت اپنی حکومت کو مستحکم بنانے پر توجہ دی، ہمیں پہلے سے موجود اصلاحات پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس کھوسہ کے دور میں جو ریفارمز سامنے آئی تھیں اگر ان پر کام کیا جائے تو آگے بڑھا جا سکتا ہے، اس حوالہ سے پانچ نکات بڑے اہم ہیں جن میں حقیقی جمہوریت، اچھا طرز حکمرانی، قانون کی بالادستی، احتساب اور اصلاحات کا بروقت نفاذ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد پہلے تحقیقات کرنی چاہئیں نہ کہ چھاپے مار کر گرفتاری کے بعد تحقیقات کرے، ایف آئی اے پہلے تحقیقات کرتا ہے پھر گرفتاری کرتا ہے اور یہی طریقہ پولیس کو اختیار کرنا چاہئے۔

 انہوں نے کہا کہ پولیس کے کردار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، پولیس آرڈر 2002ء پر عملدرآمد نہ ہونا بدقسمتی ہے، پبلک سیفٹی کمیشن موجود ہے اس کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، چھوٹے معاملات کمیونٹی پولیس کو دے دیئے جائیں اور پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ٹریننگ اور تفتیش لیڈی پولیس کے حوالے کی جائے، بائیو میٹرک ڈیٹا بنایا جائے،  ہماری پولیس ثبوت کی بجائے تشدد کا سہارا لیتی ہے جو سراسر غلط ہے۔

 دوسرے سیشن میں پولیس سربراہان، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین  ریاض فتیانہ، سینیٹر طلحہٰ محمود ، ارکان قومی اسمبلی شندانہ گلزار اور نفیسہ خٹک، سابق آئی جی پی افضل علی شگری ، فیاض خان، افتخار رشید ، ڈی جی لیگل  ایڈ اتھارٹی  ڈاکٹر رحیم اعوان، شفیق قریشی   اور عدنان رفیق  نے شرکت کی ۔تقریب میں سابق آئی جی شعیب سڈل، پولیس بیورو کے سربراہ واجد ضیا، ڈی آئی جی آپریشن پنجاب پولیس کامران عادل، ڈائریکٹر پولیس بیورو ثاقب سلطان نے بھی اظہار خیال کیا۔ تقریب کے شرکاء سے بھی رائے لی گئی اور حاضرین نے پولیس اصلاحات کے حوالہ سے تجاویز پیش کیں اور سوالات بھی اٹھائے۔