اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا کالا قانون اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم کر دیئے گئے ہیں، آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانے کے لئے پیکا 2016ء پر نظرثانی کی جائے گی، رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ 2018ء کو پوری قوت سے نافذ کیا جائے گا، جرنلسٹ سیفٹی اینڈ پروٹیکشن ایکٹ پر جلد از جلد عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، اتحادی جماعتیں مل کر تمام مسائل کا حل تلاش کریں گی، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے حکمت عملی لائی جائے گی، میڈیا سے متعلقہ تمام مسائل کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے گا، سابقہ حکومت نے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی تاہم موجودہ دور میں اس طرح کا کچھ نہیں ہوگا، سابقہ دور میں صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، ٹی وی پروگرامز بھی بند کرائے گئے، میڈیا حکومت کے احتساب کے عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، میڈیا تنقید ضرور کرے لیکن یہ تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہئے، تنقید برائے اصلاح کا خیرمقدم کریں گے، انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، کسی بے گناہ کو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا، انتقامی سیاست کا کوئی حربہ استعمال نہیں کیا جائے گا تاہم قانون اپنا راستہ ضرور بنائے گا، حکومتی ناکامیوں کا ملبہ صحافیوں پر نہیں ڈالا جا سکتا، وزارت اطلاعات کی اہم ذمہ داری پر اپنی پارٹی کی مشکور ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی آئی ڈی کے پلیٹ فارم سے ان کی چار سال بعد میڈیا سے ملاقات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری جماعت نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا اور مجھے وزارت اطلاعات کی اہم ذمہ داری سونپی اس پر اپنی جماعت کی مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ریاستی پالیسی میں وزارت اطلاعات کا اہم کردار ہے، پچھلے چار سال کے دوران میڈیا نے سینسر شپ اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کا سامنا کیا، میڈیا انڈسٹری میں بہت سے میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے نکالا گیا، میڈیا انڈسٹری پر اظہار رائے کی پابندی، سینسر شپ اور میڈیا ورکرز کے ساتھ ناروا سلوک کیاگیا، بچیوں کو سکولوں سے اغواء کے واقعات ہوئے، سینئر صحافیوں ابصار عالم، مطیع اللہ جان، حامد میر اور اسد طور پر فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے، کئی صحافیوں کے ٹی وی چینلز پر پروگرام بند کرائے گئے، میں ایسے تمام صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معاشرے کے اندر اظہار رائے کی آزادی رہے گی تو حکومت کو تقویت ملے گی، میڈیا حکومتوں کے احتساب کے عمل کو ممکن بناتا ہے، اس سے حکومت کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔











