سودی معیشت کے خاتمے کے لئے نظام الاوقات کا اعلان کیا جائے،مولانا عبدالاکبر چترالی

13

اسلام آباد۔14جون  (اے پی پی):قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا ہے کہ سودی معیشت کے خاتمے کے لئے نظام الاوقات کا اعلان کیا جائے، بجٹ میں غریبوں پر بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور ملک کا آئین اسلامی ہے۔ ہم آئین کے تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں،  سود حرام ہے۔ آرٹیکل 37 میں سود کے خاتمہ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ 227 میں کہا گیا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ سودی نظام معیشت کی وجہ سے ہماری معیشت گرتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلمی صنعت کے لئے بجٹ میں فنڈز مختص ہیں ، ہزاروں مساجد و مدارس ہیں مگر ان کے لئے ایک بھی روپیہ بجٹ میں نہیں رکھا گیا، اس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کے لئے 350 ارب کے فنڈز مختص ہیں مگر ان پر ہزاروں ارب کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ 3900 ارب روپے کی رقم سود کی ادائیگی کے لئے رکھی گئی ہے۔ ایسے میں دفاع اور دیگر شعبوں کے لئے فنڈز کیسے دستیاب ہوں گے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ سے موٹر سائیکل والا سائیکل پر آگیا ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کی گئی ہے، اس کا بوجھ غریب عوام پر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹرز مایوس ہو چکے ہیں اور ان کا حکومت اور سیاسی جماعتوں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ ہمیں ووٹرز کو عزت دینا ہوگی۔ ضم شدہ علاقوں کے لئے سالانہ 110 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر پی ایس ڈی پی میں وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ کراچی کے لئے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ زیادہ ٹیکس کراچی سے وصول ہو رہا ہے۔ انہوں نے سود کے خاتمے کے لئے نظام الاوقات مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چترال میں سڑکوں، شاہرات، گرڈ سٹیشن اور دیگر مسائل کے حل کے لئے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔